راشد لطیف کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی؛ کیا کرکٹ میں اخلاقیات بچی ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛فائل)

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف وکٹ کیپر راشد لطیف نے ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے میچ کے بعد بھارتی کھلاڑیوں کے غیر روایتی رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

راشد لطیف نے کہا ہے کہ بھارت کرکٹ کی ایک بڑی ٹیم ہے اور شاید اس وقت دنیا کی بہترین ٹیم بھی ہو مگر میچ کے اختتام پر ہاتھ نہ ملانا اس ٹیم کے اصل رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستانی کھلاڑی میدان میں کھڑے انتظار کرتے رہے لیکن بھارتی کھلاڑی بغیر مصافحہ کیے ڈریسنگ روم چلے گئے۔

سابق کپتان نے انٹر نیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے پوچھا کہ آپ کہاں ہے؟ کیا یہ کھیل کی روح کے خلاف نہیں؟

راشد لطیف کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا اور بھارتی ٹیم کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایک صارف نے لکھا کہ میچ کے بعد ہاتھ نہ ملانا اور غصے میں دروازہ بند کرنا بھارتی ٹیم کی چھوٹی سوچ اور کم ظرفی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جس کی وجہ سے قائداعظم نے کہا تھا کہ ہم میں کچھ بھی مشترک نہیں۔ شکر ہے ہم نے آزادی حاصل کی، اور ہمیں اُن کے ساتھ نہیں جینا پڑا۔ آخرکار چھوٹے لوگ ہی ہیں۔

ایک اور صارف نے جذباتی انداز میں کہا کہ ہمیں بھی انڈیا سے کرکٹ نہیں کھیلنی چاہیے جب راشد بھائی جیسے لوگ سچ بولتے ہیں تو ہمیں بھی سچائی اختیار کرنی چاہیے۔

بھارتی رویے کو برداشت کرنا ہماری مجبوری نہیں ہونی چاہیے۔ اگر بھارت ہمیں عزت نہیں دیتا، تو ہمیں بھی ان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بھاڑ میں جائے انڈیا اور اس کی کرکٹ۔

کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ دو قوموں کے درمیان تعلقات اور باہمی احترام کا ذریعہ بھی ہے۔ مگر جب ایک بڑی ٹیم کھیل کے بنیادی اصولوں، جیسے میچ کے بعد مصافحے جیسی روایت کو نظرانداز کرے تو تنقید ہونا فطری ہے۔

راشد لطیف کے اس دو ٹوک بیان نے ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا کھیل کے میدان میں اخلاقیات اور وقار کو سیاست یا تکبر کے پیچھے دفن کر دینا درست ہے؟

Related Posts