قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف وکٹ کیپر راشد لطیف نے ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے میچ کے بعد بھارتی کھلاڑیوں کے غیر روایتی رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
راشد لطیف نے کہا ہے کہ بھارت کرکٹ کی ایک بڑی ٹیم ہے اور شاید اس وقت دنیا کی بہترین ٹیم بھی ہو مگر میچ کے اختتام پر ہاتھ نہ ملانا اس ٹیم کے اصل رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستانی کھلاڑی میدان میں کھڑے انتظار کرتے رہے لیکن بھارتی کھلاڑی بغیر مصافحہ کیے ڈریسنگ روم چلے گئے۔
Yes you are India cricket , yes you are the best team in the world .. but not to shake hands at the end of the game .. shows your real colours !!! Pakistan players were waiting but Indian players went inside dressing room !! Where is ICC#AsiaCup2025 #INDvsPAK pic.twitter.com/zRv16mrjMc
— Rashid Latif | 🇵🇰 (@iRashidLatif68) September 14, 2025
سابق کپتان نے انٹر نیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے پوچھا کہ آپ کہاں ہے؟ کیا یہ کھیل کی روح کے خلاف نہیں؟
راشد لطیف کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا اور بھارتی ٹیم کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایک صارف نے لکھا کہ میچ کے بعد ہاتھ نہ ملانا اور غصے میں دروازہ بند کرنا بھارتی ٹیم کی چھوٹی سوچ اور کم ظرفی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جس کی وجہ سے قائداعظم نے کہا تھا کہ ہم میں کچھ بھی مشترک نہیں۔ شکر ہے ہم نے آزادی حاصل کی، اور ہمیں اُن کے ساتھ نہیں جینا پڑا۔ آخرکار چھوٹے لوگ ہی ہیں۔
By refusing to shake hands and slamming the door after the match, the Indian team has shown just how petty and graceless they are. Small hearts, small minds.. exactly why Quaid-e-Azam said there was nothing common between us. Thank God we took our independence and don’t have to…
— Jahanzaib Durrani (@DurraniJ19) September 14, 2025
ایک اور صارف نے جذباتی انداز میں کہا کہ ہمیں بھی انڈیا سے کرکٹ نہیں کھیلنی چاہیے جب راشد بھائی جیسے لوگ سچ بولتے ہیں تو ہمیں بھی سچائی اختیار کرنی چاہیے۔
بھارتی رویے کو برداشت کرنا ہماری مجبوری نہیں ہونی چاہیے۔ اگر بھارت ہمیں عزت نہیں دیتا، تو ہمیں بھی ان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بھاڑ میں جائے انڈیا اور اس کی کرکٹ۔
راشد بھائی جیسا رویہ انڈین اپناتے ہیں ہم کیوں نہیں وہ رویہ اپناتے ہمیں کیا پڑی ہے انڈیا سے کرکٹ کھیلنے کی ہمیں بھی انڈیا سے کسی بھی فورم پر کرکٹ نہیں کھیلنی چاہیے بھاڑ میں جاے انڈیا اور انڈیا کی کرکٹ
— Waqas Mehfooz (@WaqasMehfooz) September 14, 2025
کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ دو قوموں کے درمیان تعلقات اور باہمی احترام کا ذریعہ بھی ہے۔ مگر جب ایک بڑی ٹیم کھیل کے بنیادی اصولوں، جیسے میچ کے بعد مصافحے جیسی روایت کو نظرانداز کرے تو تنقید ہونا فطری ہے۔
راشد لطیف کے اس دو ٹوک بیان نے ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا کھیل کے میدان میں اخلاقیات اور وقار کو سیاست یا تکبر کے پیچھے دفن کر دینا درست ہے؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








