ایشیا کپ میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو سوشل میڈیا صارفین اور سابق کرکٹرز نے دلچسپ اور بعض اوقات طنزیہ تبصرے کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
شائقین نے شکست کو مختلف زاویوں سے دیکھا، کسی نے کھلاڑیوں پر تنقید کی، کسی نے پرانے دور کی کرکٹ کو یاد کیا جبکہ کئی افراد نے اس موقع کو مزاحیہ انداز میں بیان کیا۔
ایک صارف نے شکست کے بعد طنزیہ جملہ لکھا کہ چلو بہرحال جنگ ہم نے ہی جیتی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے سابق فاسٹ بولر جنید خان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم بابر اعظم اور محمد رضوان کے بغیر ادھوری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چاہے ان دونوں پر کتنی ہی تنقید کیوں نہ ہو، حقیقت یہی ہے کہ یہ دونوں کھلاڑی ٹیم کے ستون ہیں۔
بھارت کے سابق کرکٹر اتل واسان نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی موجودہ ٹیم اتنی کمزور ہے کہ بھارت کی بی ٹیم بھی اسے شکست دے سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 90 کی دہائی کی پاکستانی ٹیم بہت مضبوط تھی اور اس دور میں بھارت کو جیتنے کے لیے بھرپور جدوجہد کرنا پڑتی تھی۔
عرفان پٹھان نے بابر اعظم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ واحد پاکستانی کپتان ہیں جنہوں نے اپنی قیادت میں بھارت کو دو بار شکست دی۔ ان کے مطابق بابر کی کلاس منفرد ہے اور چاہے سلمان علی آغا جیسے سو کپتان بھی آ جائیں، وہ بابر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
بھارتی کمنٹیٹر ہارشا بھوگلے نے گروپ اسٹیج کے تناظر میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے لیے ایک شکست کے بعد اگلے مرحلے میں رسائی مشکل ہو جاتی ہے لیکن پاکستان کے لیے معاملہ مختلف ہے کیونکہ گروپ اے میں ہمیشہ نسبتاً آسان ٹیمیں رکھی جاتی ہیں۔
ان کے مطابق یہ صرف اس ایڈیشن کا معاملہ نہیں بلکہ ہر بار پاکستان کو مالیاتی مفادات کی وجہ سے کمزور گروپ میں رکھا جاتا ہے۔
کچھ ناقدین نے آئی پی ایل کے حوالے سے کہا کہ جنہیں یہ لگتا ہے کہ آئی پی ایل صرف فکسنگ اور پیسے کا کھیل ہے، وہ دیکھیں کہ اسی ٹورنامنٹ نے بھارت کو کتنے باصلاحیت کھلاڑی دیے ہیں۔
ابھشیک، سوریا اور شوم دوبے جیسے کھلاڑیوں کی مثالیں دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی کارکردگی ہی بھارت کی مضبوطی کی علامت ہے، جبکہ پاکستان کا ڈومیسٹک نظام بہتر نہ ہونے کے باعث معیاری کھلاڑی سامنے نہیں آ رہے۔
میچ کے دوران بھارتی بولرز نے پاکستانی بلے بازوں کو مکمل طور پر ناکام کیا۔ ایک بولر نے تو پاکستانی بلے بازوں کو ان کی اوقات دکھا دی، جبکہ شاہین شاہ آفریدی کو سپر سکسز آف دی میچ کا ایوارڈ ملا، جو بلے بازوں کے لیے کسی شرمندگی سے کم نہیں سمجھا گیا۔
پاکستانی بیٹنگ لائن پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ گلی محلوں کے بچے بھی ایسی گیندوں پر آؤٹ نہیں ہوتے جن پر صائم ایوب اور حارث سہیل اپنی وکٹیں گنوا بیٹھے۔ احمد شہزاد نے بھی شکست پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کرکٹ بورڈ پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی اور کہا کہ اب قوم کھلاڑیوں اور بورڈ سے جواب مانگے گی۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک مزاحیہ پوسٹ بھی سامنے آئی جس میں کہا گیا: مبارکاں! پاکستان میچ جیت گیا ہے۔۔۔ منجانب: الیکشن کمیشن فارم 47 عمران گل اٹلی۔

یہ شکست جہاں کرکٹ کے ماہرین اور سابق کھلاڑیوں کے لیے سنجیدہ بحث کا موضوع بنی، وہیں سوشل میڈیا صارفین نے اسے طنز، مزاح اور غصے کے ملے جلے انداز میں بیان کر کے عوامی جذبات کی بھرپور عکاسی کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








