کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع ایک غیر قانونی پٹاخہ گودام میں ہونے والے ہولناک دھماکے میں جاں بحق ہونے والے شہزاد علی کی اہلیہ عظمیٰ شہزاد نے سندھ حکومت اور فیکٹری مالکان کے خلاف 6 کروڑ 45 لاکھ روپے ہرجانے کا قانونی دعویٰ دائر کر دیا ہے۔
شہزاد علی ایک نجی میڈیکل لیبارٹری کے مالک تھے جن کی لیب میڈیکل مارکیٹ میں اس گودام کے بالکل قریب واقع تھی جہاں 21 اگست کو اچانک زوردار دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے نے علاقے میں تباہی مچا دی اور شہزاد علی سمیت کئی قیمتی جانیں لے گیا۔
عظمیٰ شہزاد کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ افسوسناک واقعہ فیکٹری اور گودام مالکان کی سنگین غفلت اور ناقص نگرانی کا نتیجہ تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ گودام میں خطرناک مواد غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیا گیا تھا جس کے بارے میں متعلقہ اداروں اور سندھ حکومت کو علم ہونے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
عظمیٰ شہزاد نے اپنے شوہر کے انتقال کو ریاستی بے حسی اور نجی غفلت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ سندھ حکومت اور فیکٹری مالکان کو جان لیوا حادثات ایکٹ کے تحت ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ذمہ دار فریقین کو 6 کروڑ 45 لاکھ روپے ہرجانے کی ادائیگی کا پابند بنایا جائے تاکہ شہزاد علی کے بچوں اور خاندان کو زندگی کا سفر جاری رکھنے میں سہولت میسر آ سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








