اب چشمہ لگانے کی ضرورت نہیں! سائنسدانوں نے نظر کی کمزوری کا نیا علاج دریافت کرلیا

تازہ ترین

تازہ ترین

یہ علاج انسانی تاریخ کا اہم سنگ میل ثابت ہوگا، علامتی تصویر

سائنسدانوں نے ایسے آئی ڈراپس تیار کیے ہیں جو دور کی نظر کی کمزوری یا پریسبیوپیا (وہ مرض جس میں دنیا بھر کے کروڑوں افراد قریب کی چیزیں دیکھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں) کے لیے آسان اور بغیر آپریشن علاج فراہم کرسکتے ہیں۔

اب تک اس کا علاج صرف عینک یا سرجری کے ذریعے کیا جاتا تھا، مگر اب روزانہ دو بار یہ آئی ڈراپس ڈالنے سے اس بیماری کے علاج کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

کوپن ہیگن میں یورپین سوسائٹی آف کیٹریکٹ اینڈ ریفریکٹیو سرجنز (ESCRS) میں پیش کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ان ڈراپس کے استعمال سے مریضوں کی قریب کی نظر میں نمایاں بہتری دیکھی گئی اور یہ اثر دو سال تک برقرار رہا۔

یہ ڈراپس پائلَکارپین (pilocarpine) اور ڈائکلوفینَک (diclofenac) کے امتزاج پر مشتمل ہیں۔ پائلَکارپین آنکھ کی پتلی کو سکیڑتا ہے جس سے فوکس بہتر ہوتا ہے جبکہ ڈائکلوفینَک سوزش کم کرتا ہے۔

ارجنٹینا میں 766 مریضوں پر کی گئی تحقیق میں پائلَکارپین کی تین مختلف مقداریں (1٪، 2٪، 3٪) آزمائی گئیں۔ تقریباً تمام مریض جنہوں نے 1٪ ڈراپس استعمال کیں، وہ آئی چارٹ پر دو یا زیادہ لائنیں پڑھنے لگے جبکہ 3٪ ڈراپس استعمال کرنے والوں میں سے 84٪ مریض تین یا زیادہ لائنیں پڑھنے کے قابل ہوگئے۔

تحقیق کی نگرانی کرنے والی ڈاکٹر جیوانا بینوزی کے مطابق ایک گھنٹے کے اندر بہتری نظر آنے لگی۔ ان کے مطابق “یہ علاج ہر فاصلے پر فوکس کو بہتر کرتا ہے”۔

سائیڈ افیکٹس میں وقتی طور پر دھندلا نظر آنا، ہلکی جلن اور سر درد شامل تھے۔

ماہرین نے ان نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا، مگر اس بات پر زور دیا کہ طویل المدتی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ان ڈراپس کو بڑے پیمانے پر استعمال کی اجازت دی جاسکے گی۔

Related Posts