اللہ کی رضا یا پیسوں کا کھیل؟ جانیے سامعہ حجاب کا حسن زاہد کو معاف کرنے کا راز

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ میں سماعت کے دوران معروف ٹک ٹاکر سامعہ حجاب نے اپنے معاملے میں نیا موڑ دیتے ہوئے حسن زاہد کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد عدالت نے حسن زاہد کی ضمانت منظور کرلی تاہم سامعہ نے میڈیا کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا اور معاملے کی تفصیلات پر خاموشی اختیار کر لی۔

سامعہ حجاب کے اس معافی نامے نے سوشل میڈیا پر کافی چرچا پیدا کر دیا ہے جہاں صارفین نے ان سے کئی سوالات کیے لیکن انہوں نے کسی بھی طرح کا بیان جاری نہیں کیا۔ صحافیوں نے جب معاہدے کی رقم کے بارے میں پوچھا تو سامعہ خاموشی سے عدالت سے روانہ ہو گئیں۔

عدالت میں سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج چوہدری عامر ضیا نے کی، جنہوں نے تفتیشی افسر محمد اسحاق کی رپورٹ پر یقین کرتے ہوئے بتایا کہ مدعیہ نے ملزم کو معاف کر دیا ہے۔ عدالت نے مدعیہ یا اس کے قریبی رشتہ دار کو عدالت میں بیان ریکارڈ کرانے کا حکم دیا جس کے بعد سماعت ملتوی کر دی گئی۔

بعد ازاں سامعہ حجاب خود عدالت میں پیش ہوئیں اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ جج نے ان سے پوچھا کہ کیا معاملہ طے پا گیا ہے اور کیا وہ کیس کو آگے بڑھانا چاہتی ہیں؟ جس پر سامعہ نے کہا، ہاں، ہمارا معاملہ طے پا گیا ہے میں کیس واپس لیتی ہوں اور ملزم کی ضمانت اور بریت پر کوئی اعتراض نہیں۔ اس بیان کے بعد عدالت نے حسن زاہد کی ضمانت 20 ہزار روپے کے مچلکے پر منظور کرلی۔

اس سے پہلے سامعہ حجاب نے سوشل میڈیا پر حسن زاہد کے حق میں کچھ صارفین کی گفتگو کے اسکرین شاٹس شیئر کیے تھے جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پیسے لینے والا حسن زاہد تھا نہ کہ وہ خود۔ سامعہ نے اپنی ایک حالیہ ویڈیو میں بھی کہا کہ حسن زاہد جس نے اسے زندگی ساتھی بنانے کا وعدہ کیا تھا بار بار اس سے غیر قانونی طور پر پیسے لیتا رہا۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوئی جس میں حسن زاہد کے ساتھ واٹس ایپ چیٹس کے اسکرین شاٹس بھی شامل تھے۔ سامعہ کا کہنا تھا کہ اگر وہ حسن زاہد سے پیسے لیتی تھی تو وہ اپنے کام کے بدلے تھیں لیکن حسن زاہد مسلسل ناجائز طریقے سے رقم وصول کرتا رہا۔

Related Posts