کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے عباسی شہید اسپتال میں گائنی وارڈ کا افتتاح کیا اورتقریب کی تصاویر اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے شیئر کی جن میں ایک حیران کن مگر افسوسناک صورت نظر آئی کہ گائنی وارڈ کے بستروں پر خواتین کے بجائے مرد مریض لیٹے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
کراچی میئر مرتضیٰ وہاب نے عباسی اسپتال میں گائنی وارڈ کا افتتاح کیا۔
مزاحیہ مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ افتتاحی تقریب کے دوران گائنی وارڈ کے بستروں پر خواتین کے بجائے مردوں کو لٹایا گیا!نوٹ: یہ تصاویر مرتضیٰ وہاب کی آفیشل وال سے لی گئی ہیں۔ pic.twitter.com/J4Rvv8IFEx
— ارشد صدیقی (@arshad_333) September 16, 2025
عباسی شہید اسپتال کے نئے ہیموفیلیا وارڈ برائے خواتین کے بارے میں کہا گیا کہ اس وارڈ میں صرف خواتین عملہ خدمات انجام دیں گے مگر میئر کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پوسٹ تصاویر میں وارڈ کے بستروں پر خواتین کے بجائے مرد مریض بھی بستر پر لیٹے ہوئے نظر آئے جس پر سوشل میڈیا صارفین نے طنز و تنقید کا سلسلہ شروع کردیا۔

سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر وارڈ خواتین کا مخصوص تھا تو مرد مریض وہاں کیسے پہنچ گئے؟ کچھ نے اسے نمائش بازی قرار دیا جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ وضاحت کرے تاہم اب تک میئر کے ترجمان سے موصول کوئی واضح جواب نہیں آیا ہے۔
میئر مرتضیٰ وہاب نے تقریب میں کہا تھا کہ وارڈ چھ بستروں پر مشتمل ہے اور مریضہ خواتین کے لیے خصوصی سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ افتتاح کے موقع پر ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد بھی موجود تھے۔
اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ علاج کے اخراجات، خاص طور پر ہیموفیلیا جیسے مہنگے علاج کی صورت میں، لاکھوں روپے تک ہو سکتے ہیں۔ اس لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی نے کچھ مہینے قبل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مفت سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ شروع کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








