گجرات ہائی کورٹ نے ٹرائنا مود کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور سابق کرکٹ کھلاڑی یوسف پٹھان کو ودوڈارا کے ٹنڈالجا علاقے میں سرکاری زمین غیر قانونی طور پر قبضے میں رکھنے پر قابض قرار دے دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس پلاٹ کو خالی کریں۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ مشہور شخصیات بھی قانون کے دائرے سے باہر نہیں ہو سکتیں اور قانون سے استثنیٰ دینا غلط مثال قائم کرتا ہے۔
یہ تنازعہ 2012سے جاری ہے، جب ودوڈارا میونسپل کارپوریشن نے یوسف پٹھان کو ایک نوٹس جاری کیا تھا کہ وہ اس زمین کو خالی کریں کیونکہ یہ زمین سرکاری ہے اور وہ اسے غیرقانونی طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
یوسف پٹھان: میں نے یہ زمین قانونی طور پر حاصل کی ہے اور میں آج کی مارکیٹ قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے، میرے بنگلے کے ساتھ والی یہ زمین مجھے الاٹ کی جانی چاہیے۔
جسٹس ماونا بھٹ (بھارتی گجرات ہائی کورٹ): آپ قابض ہیں، اب ادائیگی کی آمادگی غیر قانونی قبضے… pic.twitter.com/6mHbpA39hq
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) September 16, 2025
یوسف پٹھان نے اس نوٹس کو چیلنج کیا اور کیس گجرات ہائی کورٹ تک گیا۔عدالت نے یوسف پٹھان کی عرضی مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ وہ پلاٹ کا غیر قانونی مالک ہے۔
پٹھان نے عرضی میں یہ استدعا کی تھی کہ وہ اور ان کے بھائی عرفان پٹھان دونوں معروف کھیل شخصیات ہیں اور ان کی حفاظت کے پیشِ نظر پلاٹ کو خریدنے دیا جائے، مگر ریاستی حکومت نے 2014میں اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ چونکہ یوسف پٹھان جیسے عوامی نمائندے اور مشہور شخصیت پر عوام کا بڑا اثر ہوتا ہے، اس لیے ان کی قانونی پابندی کی ذمہ داری عام افراد سے بھی زیادہ ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر مشہور شخصیات کو قانون سے مستثنیٰ رکھا جائے، تو اس سے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد کمزور ہوگا۔
افغانستان کے ہاتھوں پاکستان کی شکست: عرفان پٹھان خوشی سے نہال، گراؤنڈ میں بھنگڑے ڈال دیے
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کے دوران پٹھان برادران پاکستان کیخلاف زہر الگنے میں ہمیشہ آگے رہتے ہیں۔
عرفان پٹھان پاکستان کیخلاف نفرت کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں چھوڑتے جبکہ یوسف پٹھا ن نے چند ہفتے قبل لیجنڈز لیگ میں پاکستان کیخلاف کھیلنے سے انکار کرکے پاکستان سے شدید نفرت کا اظہار کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








