پاکستان میں ایچ وی آئی ویکسین کی فراہمی کے حوالے سے بحث و مخالفت کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے اور مختلف حلقے اس کے مضر اثرات سے متعلق پروپیگنڈا کرکے عوام کو ویکسین لگوانے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اسکولوں میں زبردستی ویکسین لگانے کے بعد کئی بچیوں کی حالت بگڑ گئی اور انہیں اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
&
👩🏼🎓سکولوں میں زبردستی ویکسینیشن کے بعد کئی بچیوں کی طبیعت خراب ہو گئی اور اُنہیں اسپتال منتقل کرنا پڑا
🤲خدارا! اپنے بچوں کے معاملے میں صاف اور دو ٹوک موقف اختیار کریں
☢️دنیا کے سب تجربے ہمیشہ ہم غریبوں پر ہی کیے جاتے ہیں💔
💉سیلاب زدگان کیلیے مدد نہیں پر مغرب فری ویکسین دے رہا ہے pic.twitter.com/QBr6BJ9OZ0— Abdullah Gul (@MAbdullahGul) September 16, 2025
nbsp;
ویڈیو کے ساتھ یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا کہ بچوں پر تجربات کیے جا رہے ہیں جبکہ ملک کے بنیادی مسائل جیسے سیلاب متاثرین کی بحالی پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی، مگر مغرب سے آنے والی ویکسین مفت فراہم کی جا رہی ہے۔
سروائیکل کینسر کی ویکسینیشن: کیا یہ واقعی خطرناک اور اسلام دشمن قوتوں کی سازش ہے؟
تحقیق کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ جس ویڈیو کو بنیاد بنا کر ویکسین کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے، اس کا ایچ وی آئی ویکسین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ ویڈیو دراصل گزشتہ برس ڈڈیال کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران کی ہے جب پولیس کی جانب سے کی گئی آنسو گیس شیلنگ کے نتیجے میں کئی طالبات متاثر ہوئی تھیں اور انہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
اس طرح یہ واضح ہوگیا ہے کہ سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی ویڈیو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر ویکسین کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








