ریمانڈ سے پہلے عوامی انصاف؟ جنسی درندے شبیر تنولی پر عدالت میں تھپڑوں کی بارش

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے بچوں اور بچیوں سے زیادتی کے سنگین الزام میں گرفتار شبیر تنولی کے جسمانی ریمانڈ میں تین دن کی توسیع کر دی ہے۔ ملزم پر 100 سے زائد بچوں و بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے کے مقدمات درج ہیں۔

عدالت میں سماعت کے دوران متاثرہ بچیوں نے عدالت کے اندر موجود ملزم کو تھپڑ رسید کیے جس کے باعث عدالت کا ماحول انتہائی جذباتی اور سنگین ہو گیا۔ پولیس نے ملزم کو 7 مختلف مقدمات میں نامزد کیا ہے جن کی تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کی گئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شبیر تنولی کو مقامی افراد کی شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا جو 2016 سے مسلسل بچوں اور بچیوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ ملزم اپنی وارداتوں کی ویڈیوز بناتا اور انہیں بعد میں دیکھتا تھا۔ ان ویڈیوز کے ذریعے وہ اپنی کارروائیوں کو ریکارڈ کرتا تھا، جو پولیس کے لیے اہم شواہد ہیں۔

ملزم کے خلاف تھانہ ڈیفنس میں بھی مقدمات درج ہیں اور تحقیقات میں اب تک کئی متاثرہ بچوں کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جلد مزید شواہد عدالت میں پیش کرے گی۔

عدالت نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ آئندہ سماعت پر پولیس پیشرفت رپورٹ پیش کرے۔ سماعت کے دوران متاثرہ بچیوں اور ان کے والدین کی جانب سے انصاف کا مطالبہ کیا گیا اور ملزم کو سخت سزا دینے کا کہا گیا۔

دوسری جانب، صحافیوں نے جب ملزم سے سوال کیا کہ وہ بچوں کی ویڈیوز کا کیا کرتا تھا، تو اس نے جواب دیا کہ وہ انہیں بعد میں دیکھتا تھا جس سے عدالت اور موجود افراد میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔

یہ کیس بچوں کے تحفظ اور سماجی انصاف کے حوالے سے بہت حساس سمجھا جا رہا ہے اور اس پر پولیس اور عدلیہ کی طرف سے تیز تر کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ ملزم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے اور متاثرہ بچوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

Related Posts