ٹرمپ کا دھماکاخیز فیصلہ؛ ورک ویزا فیس ایک لاکھ ڈالر کردی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے H‑1B ورک ویزا کے لیے فیس میں غیر معمولی اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اب ہر ویزا درخواست پر سالانہ ایک لاکھ ڈالر فیس لاگو ہوگی جوکہ موجودہ فیس سے کئی زیادہ ہے۔ اس ویزا کا مقصد ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور سائنس جیسے شعبوں میں ماہر غیر ملکی کارکنوں کو امریکہ میں کام کرنے کا موقع دینا ہے۔

عام طور پر یہ ویزا تین سال کے لیے دیا جاتا ہے اور اسے مزید تین سال کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے۔ H‑1B ویزا حاصل کرنے کے لیے کم از کم بیچلر ڈگری ضروری ہے اور اس کا استعمال زیادہ تر ٹیکنالوجی کی کمپنیوں میں ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی خالی اسامیوں کو بھر سکیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نئی فیس کا مقصد ایسے اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کو ترجیح دینا ہے جو امریکی معیشت کے لیے زیادہ قیمتی ہوں۔ اس سے کم ہنر والے کارکنوں کی بھرتی مشکل ہو جائے گی اور امریکی مزدوروں کو مواقع زیادہ ملیں گے۔

امریکی حکومت نے ایک نیا گولڈ کارڈ ویزا بھی متعارف کرایا ہے جس کے تحت ایک کروڑ ڈالر کی فیس پر امیگریشن کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔

یہ نیا نظام ٹیکنالوجی اور دیگر صنعتوں پر اثر ڈالے گا جہاں بیرون ملک سے ماہر افراد کی خدمات لی جاتی ہیں اور خاص طور پر ان ممالک کے امیدوار متاثر ہوں گے جو H‑1B ویزا کے سب سے بڑے حصول کنندگان میں شامل ہیں۔

Related Posts