یمن کے سمندری علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں مائع گیس (ایل پی جی) لے جانے والے ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون حملہ کیا گیا جس کے بعد جہاز پر موجود عملے کو یرغمال بنا لیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق یرغمال بنائے گئے 27 افراد میں 24 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں جن میں محمد عبداللہ، محمد ایان، یاسر خان، ذیشان اعوان سمیت دیگر نوجوان شامل ہیں۔
یمن کی سمندری حدود میں ایل پی جی لیکر جانے والے بحری جہاز پر ڈرون حملے کے بعد 24 پاکستانیوں محمد عبداللہ، محمد ایان، یاسر خان، ذیشان اعوان وغیرہ سمیت عملے کے 27 افراد کو بندر گاہ “راس عیسی” پر یرغمال بنالیا گیا۔ تمام لوگ 48 گھنٹے سے محصور بنا رکھے گئے ہیں۔ ورثاء نے حکومت سے اپیل… pic.twitter.com/vLK0BuuL0D
— Muhammad Umair (@MohUmair87) September 19, 2025
یہ واقعہ یمن کی بندرگاہ راس عیسیٰ کے قریب پیش آیا جہاں حملے کے بعد تمام عملے کو بندرگاہ پر 48 گھنٹوں سے محصور رکھا گیا ہے۔ یرغمال افراد کی حالت کے بارے میں تاحال واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔
متاثرہ افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔ ورثاء کا کہنا ہے کہ حکام کو فوری طور پر یمن حکومت اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے رابطہ کر کے تمام پاکستانیوں کو بحفاظت بازیاب کروانا چاہیے۔
یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی خیریت کے لیے بے حد پریشان ہیں اور حکومت کی طرف سے فوری اور موثر ردعمل کے منتظر ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








