پی آئی اے کے بعد حکومت ریلوے سے بھی جان چھڑانے لگی، نجکاری کی ابتدائی کوشش بری طرح ناکام

تازہ ترین

تازہ ترین

فائل فوٹو

پاکستان ریلوے کی 11 ٹرینوں کو آؤٹ سورس کرنے کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہوگیا ہے اور اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان ٹرینوں کی نیلامی اوپن بولی کے ذریعے کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ریلوے نے پہلے مرحلے میں 11 ٹرینوں کو نجی شعبے کے تعاون سے چلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے ٹیکنیکل بڈز کھولنے کے بعد حال ہی میں فنانشل بڈز بھی سامنے آئیں، جن میں سے 9 ٹرینوں کے لیے مختلف نجی کمپنیوں نے اپنی بولیاں جمع کرائی تھیں۔

 پاکستان ریلوے کو اپنی 9 ٹرینوں کے لیے 7 ارب 90 کروڑ 30 لاکھ روپے کی فنانشل بڈز موصول ہوئیں تاہم ابھی ٹرینوں کی حتمی منظوری ہونا باقی تھی۔

پنجاب میں سیلابی صورتحال نے ریلوے سروس بند کردی، جانئے شیڈول

وزیر ریلوے حنیف عباسی کی سربراہی میں  اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسافر ٹرینوں کی آوٹ سورسنگ اوپن نیلامی کے ذریعے ہوا کرے گی  جس کا اطلاق حالیہ آوٹ سورس ہونے والی ٹرینوں پر بھی ہو گا۔

پاکستان ریلوے  کے اس اعلان کے بعد ٹرینوں کو آوٹ سورس کرکے پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے چلانے کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔

پاکستان ریلوے کو 9 ٹرینوں کے لیے 7 ارب 90 کروڑ روپے کی فنانشل بڈز موصول ہوئی تھیں، ہزارہ ایکسپریس  کے لیے دو ارب 62 کروڑ روپے، ملت ایکسپریس کی دو ارب 60 کروڑ روپے، سبک خرام کی 64 کروڑ، راول ایکسپریس کی69 کروڑ روپے اور بدر ایکسپریس ٹرین کی24 کروڑ روپے ک بڈز موصول ہوئی تھیں۔

اسی طرح غوری ایکسپریس ٹرین کی 25 کروڑ روپے، تھل ایکسپریس ٹرین کی 60 کروڑ روپے، فیض احمد فیض مسافر ٹرین کی 8 کروڑ 65 لاکھ روپے اور راوی ایکسپریس ٹرین کی 16 کروڑ 12 لاکھ روپے بڈز موصول ہوئیں۔

دوسری جانب بہاالدین زکریا ایکسپریس اور موہنجودڑو ایکسپریس ٹرین کی کسی کمپنی نے فنانشل بڈز جمع نہیں کرائی۔

Related Posts