زمین جب سورج کے گرد اپنا سالانہ سفر جاری رکھتی ہے تو ستمبر کا مساوی لمحہ (Equinox) آتا ہے، جسے شمالی نصف کرے میں خزاں کے آغاز کے طور پر جانا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سال قدرت کا یہ شاہکار فلکیاتی واقعہ 22 ستمبر کو (آج) رونما ہوگا۔ یہ وہ نادر لمحہ ہے جب دن اور رات دنیا بھر میں تقریباً برابر ہو جاتے ہیں۔
مساوی لمحہ کیسے وجود میں آتا ہے؟
ایکوئنوکس کے دوران سورج خطِ استوا کے بالکل اوپر واقع ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں بیشتر مقامات پر تقریباً 12 گھنٹے دن اور 12 گھنٹے رات ہوتی ہے۔ لفظ “Equinox” لاطینی زبان سے ماخوذ ہے: aequus (برابر) اور nox (رات)۔
شمالی نصف کرے میں یہ لمحہ خزاں کے آغاز کا اعلان کرتا ہے، جب دن چھوٹے، موسم ٹھنڈا اور درختوں کے پتے جھڑنے لگتے ہیں۔ برعکس جنوبی نصف کرے میں یہی دن بہار کا آغاز ہوتا ہے، جو تازگی، بڑھتی روشنی اور نئی زندگی کی علامت ہے۔
یہ لمحہ کب سامنے آئے گا؟
اس سال کا مساوی لمحہ جسے اعتدال خریفی بھی کہا جاتا ہے، 23 ستمبر کو رات 12 بج کر 44 منٹ پر (UTC وقت کے مطابق) ہوگا، تاہم مقامی وقت مختلف خطوں میں بدل سکتا ہے۔ فضا اور عرض البلد کے فرق کے باوجود دن اور رات کی طوالت حیرت انگیز طور پر تقریباً برابر رہتی ہے۔
سائنسی اہمیت سے ہٹ کر، ایکوئنوکس کو صدیوں سے مختلف تہذیبیں مناتی رہی ہیں۔ کہیں یہ فصل کٹائی کا تہوار ہے تو کہیں روحانی تبدیلی کا وقت۔
زمین کے معمولی جھکاؤ کے باوجود ستمبر کا ایکوئنوکس ہمیں یہ حسین یاد دہانی کراتا ہے کہ فطرت اپنی حرکت میں بھی توازن کے لمحے ڈھونڈ لیتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








