جنرل اسمبلی اجلاس: حکومت کیلئے تنازع کا سبب بننے والی شمع جونیجو کون ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

یو این جی اے اجلاس کا منظر، فائل فوٹو

دفترِ خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ برطانیہ میں مقیم تجزیہ کار شمع جونیجو، جن پر ناقدین اسرائیل نواز خیالات رکھنے کا الزام لگاتے ہیں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کے وفد کی سرکاری رکن نہیں تھیں۔

یہ وضاحت اُس وقت سامنے آئی جب سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر وائرل ہوئیں جن میں شمع جونیجو کو وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے بالکل پیچھے بیٹھے دیکھا گیا، جب وہ سلامتی کونسل میں خطاب کر رہے تھے۔ اس پر ان کے ماضی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق مبینہ بیانات کی وجہ سے تنقید کی لہر دوڑ گئی۔

دفترِ خارجہ نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ شمع جونیجو پاکستانی وفد کے اُس سرکاری لیٹر آف کریڈنس میں شامل نہیں تھیں، جس پر ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ کے دستخط ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیرِ دفاع کے پیچھے ان کی نشست ڈپٹی وزیراعظم / وزیرِ خارجہ کی منظوری سے نہیں تھی اور یوں وزارت نے اُن سے کسی بھی سرکاری تعلق کو مسترد کر دیا۔

اس واقعے کے بعد یہ مطالبہ زور پکڑ گیا ہے کہ کثیرالجہتی فورمز میں پاکستان کے وفود کے ساتھ جانے والے غیر سرکاری افراد کی سخت جانچ پڑتال کی جائے۔

شمع جونیجو کون ہیں؟

انٹرنیٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق شمع جونیجو سندھ کے شہر کوٹری میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 1991 سے 1993 تک ریڈیو پاکستان میں نیوز کاسٹر کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا اور ساتھ ہی ماہنامہ “بختاور” (عبرت گروپ آف پبلیکیشنز) میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ اسی دور میں پاکستان ٹیلی ویژن پر اداکاری کا سفر شروع ہوا اور ڈرامہ سیریل “عروسہ” نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

جون 1993 میں ان کی شادی سینئر پولیس افسر جمشید قاضی سے ہوئی، جو اس وقت اقوامِ متحدہ میں چیف آف آپریشنز برائے سیکورٹی کے طور پر جوبا میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

شمع جونیجو تین بچوں کی ماں ہیں اور دنیا کے مختلف خطوں میں رہنے اور سفر کرنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے بوسنیا، متحدہ عرب امارات، اٹلی اور سوڈان میں زندگی گزاری اور فی الحال لندن میں مقیم ہیں اور ایکس پر متحرک ہیں۔

۔

Related Posts