اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس غلط فہمی کی وضاحت کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل فنڈ ٹرانسفرز پر دو گھنٹے کا کولنگ پیریڈ لاگو ہوتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ پاکستان میں تمام ڈیجیٹل فنڈ ٹرانسفرز ریئل ٹائم میں پروسیس ہوتے ہیں اور رقوم عموماً فوری طور پر وصول کنندہ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتی ہیں۔
تاہم دو گھنٹے کا کولنگ پیریڈ صرف برانچ لیس بینکنگ والٹس/اکاؤنٹس پر لاگو ہوتا ہے اور یہ صرف رقوم کے استعمال کو متاثر کرتا ہے، وصولی کو نہیں۔ یعنی والٹ میں رقم تو فوراً کریڈٹ ہو جاتی ہے، مگر کیش نکلوانا، آن لائن خریداری کرنا یا موبائل بیلنس لوڈ کرنا صرف دو گھنٹے بعد ہی ممکن ہوتا ہے۔
صفر سے کھربوں تک کا سفر، پاکستانیوں کیلئے حلال انڈسٹری میں سرمایہ کاری کا بہترین وقت آگیا!
یہ ضابطہ اپریل 2023 میں متعارف کرایا گیا تھا تاکہ برانچ لیس بینکنگ اکاؤنٹس کے لیے کسٹمر ڈیو ڈیلیجنس کو مزید مؤثر بنایا جا سکے، کیونکہ ان اکاؤنٹس میں عموماً سادہ تصدیقی عمل ہوتا ہے اور ان کے فراڈ میں استعمال ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
دو گھنٹے کا کولنگ پیریڈ ایک حفاظتی اقدام ہے جو صارفین کو یہ موقع دیتا ہے کہ اگر کوئی غیر مجاز ٹرانزیکشن ہو جائے تو وہ رقوم کے غلط استعمال سے قبل رپورٹ کر سکیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اس نظام کو نافذ ہوئے ڈھائی سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور یہ فراڈ کی روک تھام کے لیے مؤثر ثابت ہوا ہے، جبکہ عام صارفین کو اس سے کوئی خاص رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








