پشاور کے علاقے قمر دین گڑھی میں گزشتہ روز پولیس موبائل پر ہونے والے دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) کے مطابق اس حملے میں تقریباً ڈیڑھ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
دہشت گردوں نے پولیس گاڑی کو نشانہ بنا کر دھماکہ کیا، جس میں ٹن کے ڈبے اور بال بیرنگ بھی استعمال کیے گئے تھے تاکہ دھماکے کی شدت زیادہ ہو۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں اس دھماکے کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے جن میں سے ایک اہلکار دوران علاج دم توڑ گیا۔
مار مار کر ہڈیاں توڑ دیں، بجلی کے جھٹکے دیئے اور! کشمور میں شوہر کے ہاتھوں بیوی کا المناک قتل
کے پی پولیس کے مطابق دھماکہ کوہاٹ روڈ پر قمر دین گڑھی میں نصب بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوا۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ایس ایس پی آپریشنز مسعود بنگش نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس موبائل کو باقاعدہ طور پر نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم بروقت اقدامات سے بڑے نقصان سے بچا گیا۔
دوسری جانب دھماکے کا مقدمہ درج کرنے کیلئے پولیس نے سی ٹی ڈی کو مراسلہ ارسال کردیا ہے۔مراسلے میں کہا گیا کہ گڑھی قمر دین پل پر ریموٹ کنٹرول دھماکہ ہوا۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ کی جانب سے دھماکے کی تحقیقات میں پیشرفت کے بعد سامنے آنے والے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








