آپریشن بنیان مرصوص بھول گئے؟ بھارتی آرمی چیف کی پاکستان کو نقشے سے مٹانے کی دھمکی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اپندرا دویویدی نے پاکستان کے خلاف نہایت اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے مبینہ طور پر دہشت گردوں کی حمایت بند نہ کی تو اُسے اپنی جغرافیائی حیثیت سے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے۔

بھارتی آرمی چیف نے الزام عائد کیا کہ پاکستان ریاستی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے اور اگر اس روش کو ترک نہ کیا گیا تو بھارت سخت جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

راجستھان کے علاقے انوپ گڑھ میں ایک فوجی چوکی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل دویویدی نے کہا کہ اگر پاکستان عالمی نقشے پر باقی رہنا چاہتا ہے تو اسے فوراً دہشت گردی کی حمایت بند کرنا ہوگی۔ اس بار ہم نرمی نہیں دکھائیں گے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by NDTV (@ndtv)

انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ بھارت کسی نئے آپریشن کی تیاری کرسکتا ہے جسے انہوں نے آپریشن سندور جیسا قرار دیا، یہ واضح دھمکی ہے کہ بھارت مستقبل قریب میں عسکری کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔

جنرل دویویدی کا بیان صرف ایک عسکری رائے نہیں بلکہ یہ ایک سینئر ریاستی اہلکار کی جانب سے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور جنگی جنون پر مبنی بیان ہے جو خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

ایک فوجی سربراہ کی طرف سے اس قسم کی زبان نہ صرف سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ خود بھارت کی جمہوری ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

اگر کسی ریاست کو دوسرے ملک سے شکایات ہوں تو اس کے حل کے لیے عالمی ادارے سفارتی راستے اور قانونی ذرائع موجود ہیں کھلے عام نقشے سے مٹانے کی بات کرنا جنگی اشتعال انگیزی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

بھارت کی جانب سے بار بار اس قسم کے بیانات جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بارہا کہا گیا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف پالیسی کے تحت لڑ رہا ہے اور ایسے الزامات ثبوتوں کے بغیر صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے مترادف ہیں۔

یہ کبھی نہیں سدھریں گے! بھارتی وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے پاکستان کو اب کونسی دھمکی دیدی؟

جنرل اپندرا دویویدی جیسے اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات دینا نہایت تشویشناک ہے۔ ایک طرف بھارت دنیا میں اپنے آپ کو ایک بڑی جمہوریت اور معاشی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے تو دوسری جانب اس کے فوجی افسران انتہائی خطرناک بیانیے کو ہوا دے رہے ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

Related Posts