کراچی: ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ شہر میں دودھ کی قیمت 11 اکتوبر سے 300 روپے فی لیٹر تک بڑھا دی جائے گی۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب 2 اکتوبر کو کمشنر کراچی کے دفتر میں ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔
ایسوسی ایشن کے صدر شاکر عمر گجر کے مطابق دودھ کی پیداواری لاگت اس وقت 271 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، اور جب اس میں ترسیل اور خوردہ اخراجات شامل کیے جاتے ہیں تو قیمت 300 روپے فی لیٹر تک جا پہنچتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں سرکاری طور پر نئی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا، تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا پر اجلاس ادھورا چھوڑ دیا گیا اور نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جا سکا۔
اس صورتحال پر ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن، ریٹیلرز ایسوسی ایشن اور ہول سیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کمشنر آفس میں ہی دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر قیمت کا سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
ان تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے اس فیصلے کو باقاعدہ طور پر منظور نہ کیا تو بھی 11 اکتوبر سے نئی قیمت نافذ ہو جائے گی کیونکہ اس پر دودھ کی سپلائی چین سے جڑے تمام بڑے اسٹیک ہولڈرز پہلے ہی متفق ہو چکے ہیں۔
شہریوں کی جانب سے اس اعلان پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ دودھ کی بڑھتی قیمت نہ صرف روزمرہ اخراجات کو متاثر کرے گی بلکہ مہنگائی کی نئی لہر کو بھی جنم دے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








