قید کی تاریکی میں ملی ایمان کی روشنی، صمود فلوٹیلا کے اطالوی کارکن نے اسرائیلی جیل میں اسلام قبول کرلیا

تازہ ترین

تازہ ترین

اطالوی فلوٹیلا کارکن قبول اسلام کے بعد، فوٹو عرب میڈیا

غزہ کے لیے امداد لے جانے والی “صمود فلوٹیلا” کے اطالوی کارکن توماسو بورتولازی (Tommaso Bortolazzi) نے اسرائیلی حراست کے دوران اسلام قبول کرلیا ہے۔

اطالوی رضاکار کو فلوٹیلا مشن کے دوران اسرائیلی فورسز نے گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں رہائی کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی قید میں ایک روحانی لمحہ ان پر وارد ہوا جس نے ان کے دل کو سکون اور یقین عطا کیا۔

ان کے بقول یہ وہ لمحہ تھا جس نے مجھے سکینت اور یقین بخشا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیفیت اور روحانی تجربے کے نتیجے میں انہوں نے اسرائیلی جیل میں ہی اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

اسرائیل کتنی بار روکے گا؟ مظلوموں کے ہمدردوں کا ایک اور قافلہ غزہ کی جانب روانہ، جانئے تفصیل

یہ خبر انسٹاگرام، الجزیرہ عربی اور متعدد عربی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر “بعد الاحتجاز الإسرائيلي” (یعنی اسرائیلی قید کے بعد) کے عنوان سے تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

عرب صارفین نے توماسو بورتولازی کے اس روحانی سفر کو “ظلم کی اندھیری کوٹھڑی سے ایمان کی روشنی تک کا سفر” قرار دیا ہے، جبکہ کئی فلسطینی حامی حلقوں نے اس فیصلے کو اسرائیلی جبر کے منہ پر ایک خاموش مگر گونجدار جواب قرار دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، بورتولازی اب اسلام کی تعلیمات سیکھنے اور اپنی زندگی کو اس نئے روحانی راستے پر استوار کرنے کے عزم پر قائم ہیں۔

Related Posts