کچھ دنوں سے مختلف ملکی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں پر یہ خبر نشر ہو رہی ہے کہ پاکستان بلوچستان میں پسنی کی مجوزہ بندرگاہ امریکا کے حوالے کر رہا ہے، اس حوالے سے تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
پاکستان نے واضح طور پر تردید کی ہے کہ اس نے بلوچستان کے پسنی میں مجوزہ بندرگاہی منصوبے تک رسائی کے لیے امریکہ کو کوئی پیشکش کی ہے۔ ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے سرکاری میڈیا پر اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان اس سلسلے میں کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہوا اور اگر کوئی بات چیت ہوئی بھی ہے تو وہ صرف غیر رسمی اور ابتدائی نوعیت کی تھی۔
افغان طالبان میں ٹرمپ کا خوف؟ ملا برادر کی یقین دہانیوں باوجود کئی ارکان ملک چھوڑنے کو تیار
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے مشیروں نے امریکی حکام کو ایک منصوبہ پیش کیا، جس کے تحت امریکی سرمایہ کار بلوچستان کے ضلع گوادر کے ساحلی شہر پسنی میں بندرگاہ تیار اور چلائیں گے۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان کے معدنی وسائل تک بہتر رسائی حاصل کرنا بتایا گیا تھا۔
تاہم اس اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے واضح کیا کہ حکومت یا فوج کی جانب سے ایسا کوئی منصوبہ منظور یا پیش نہیں کیا گیا۔ ان کے بقول، “کوئی سرکاری منصوبہ موجود نہیں ہے اور نجی اداروں کے درمیان جو بات چیت ہوئی وہ غیر رسمی تھی۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پسنی کی سیکیورٹی کسی غیر ملکی طاقت کے حوالے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ عہدیدار نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ آرمی چیف کے پاس ایسے “مشیر” موجود ہیں جو اس قسم کے منصوبوں میں شامل ہوں اور ایسے بیانات کو گمراہ کن قرار دیا۔
پسنی، جس کی آبادی تقریباً 70 ہزار ہے، اپنی گہرے پانی کی بندرگاہی صلاحیت کے باعث اسٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے، لیکن فی الحال یہ منصوبہ صرف ایک تصور کی حد تک موجود ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ اس کی جغرافیائی اہمیت تسلیم شدہ ہے، مگر اس وقت کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو رہی۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ تجویز جنرل منیر کے زیرِ غور آئی تھی اور امریکی حکام کے ساتھ ایک حالیہ ملاقات میں اس پر بات بھی ہوئی، تاہم پاکستانی حکام اور امریکی ایجنسیوں دونوں نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اگر یہ بندرگاہی منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو امریکہ کو چین کے زیرِ اثر گوادر کے قریب ایک اسٹریٹیجک موجودگی حاصل ہو سکتی ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی بھی عکاسی کرے گی کہ پاکستان کو بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت کے باوجود واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان اپنے تعلقات میں نہایت محتاط توازن قائم رکھنا پڑ رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








