افغان طالبان میں ٹرمپ کا خوف؟ ملا برادر کی یقین دہانیوں باوجود کئی ارکان ملک چھوڑنے کو تیار

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

افغان طالبان کے سینئر رہنما ملا عبدالغنی برادر، جنہیں بعض حلقے عبداللہ کے نام سے بھی جانتے ہیں نے حالیہ شوریٰ اجلاس میں طالبان ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان مضبوط تھے، ہیں اور آئندہ بھی اپنے مؤقف پر قائم رہیں گے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں ملا برادر نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی فون کال انہوں نے خود ختم کی تھی اور گفتگو کے دوران انہوں نے امریکی صدر کو شرپسند بھی کہا تاہم ان بیانات کے باوجود طالبان کے اندرونی حلقوں میں ٹرمپ کے رویے نے خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے بگرام ایئر بیس پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی دھمکیوں نے کئی طالبان ارکان کو پریشان کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ بگرام وہی جگہ ہے جہاں امریکہ نے برسوں تک طالبان جنگجوؤں کو حراست میں رکھا تھااور اب وہاں دوبارہ امریکی موجودگی کی باتیں طالبان کے لیے ایک سنگین خدشہ بن گئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس دباؤ کے باعث کچھ طالبان نے اپنی ذمہ داریاں چھوڑ دی ہیں جبکہ کئی دوسرے قیادت پر اعتماد کھوچکے ہیں۔ کچھ ارکان نے تو ملک چھوڑنے کی تیاری بھی شروع کر دی ہے اور پاسپورٹس بنوا لیے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال میں باہر جا سکیں۔

ملا برادر کی کوشش ہے کہ حوصلہ برقرار رکھا جائے لیکن زمینی حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ امریکی دھمکیاں طالبان کے اندر گہری بےچینی پیدا کرچکی ہیں۔

Related Posts