وعدے اونچی اڑان کے مگر! جانیں سرین ایئر لائن پر پابندی کیوں لگائی گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان کی نجی ایئرلائن سرین ایئر نے اعلان کیا ہے کہ اس کے تمام فضائی پروازیں غیر متوقع وجوہات کی بنا پر عارضی طور پر معطل کردی گئی ہیں۔ ایئرلائن کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ وقتی ہے اور ان کی ٹیم متعلقہ حکام کے ساتھ ملکر جلد از جلد سروس بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ بیان پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) کی طرف سے سرین ایئر کا ایئر آپریٹر سرٹیفکیٹ (اے او سی) معطل کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ ایئرلائن کے پاس اس وقت کوئی بھی قابل پرواز طیارہ موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے اس کا لائسنس معطل کر دیا گیا ہے۔

پی سی اے اے کے مطابق سرین ایئر کا لائسنس تب تک معطل رہے گا جب تک وہ اپنے فضائی آپریشن کے لیے نئے طیارے فراہم نہیں کرتی۔ لائسنس کی بحالی کے لیے ایئرلائن کو تمام ضوابط اور شرائط پوری کرنی ہوں گی۔

سرین ایئر نے2017 میں اپنی خدمات کا آغاز کیا تھا اور اس کا بیڑا 5 بوئنگ737 طیاروں پر مشتمل تھا تاہم حالیہ ہفتوں میں یہ تمام طیارے غیر قابل پرواز ہوگئے جس کی وجہ سے ایئرلائن نے اپنی پروازیں روک دی ہیں۔

ذرائع کےمطابق مالی مسائل کی وجہ سے سرین ایئر کو فضائی آپریشنز کو جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ پی سی اے اے نے ایئرلائن کو ہدایت دی ہے کہ وہ لائسنس معطلی کے بعد اپنے تمام متعلقہ سرٹیفکیٹس واپس جمع کروائیں۔

سرین ایئر نے اپنے مسافروں کو یقین دلایا ہے کہ ان کا تحفظ اور آرام ان کی اولین ترجیح ہے۔ ایئرلائن نے عوام سے صبر و تحمل کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد ہی دوبارہ خدمات شروع کرنے کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی اور مسافروں کو جلد ان کے ساتھ پروازیں کرنے کا موقع ملے گا۔

Related Posts