پاکستان اور امریکہ کے درمیان 500 ملین ڈالر کے اہم معاہدے کے تحت پاکستان نے نایاب اور قیمتی معدنیات کی پہلی کھیپ امریکہ روانہ کردی ہے جس میں اہم دھاتیں جیسے اینٹمونی (Antimony)، تانبا (Copper Concentrate)، اور نایاب ارضی عناصر شامل ہیں جن میں نیوڈیمیم (Neodymium) اور پراسیوڈیمیم (Praseodymium) شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکہ کی کمپنی یو ایس اسٹریٹیجک میٹلز (US Strategic Metals) کے سی ای او اسٹیسی ڈبلیو ہیسٹی نے دی ہیں۔ یہ کمپنی ریاست میسوری میں واقع ہے اور اسی کمپنی کو یہ قیمتی معدنیات فراہم کی گئی ہیں۔
معاہدے کی تفصیلات
ستمبر 2025 میں پاکستان کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) اور یو ایس اسٹریٹیجک میٹلز کے درمیان ایک یادداشتِ تفاہم (MoU) پر دستخط ہوئے تھے جس کا مقصد پاکستان میں ایک پولی میٹالک ریفائنری قائم کرنا ہے تاکہ امریکہ کو درکار اہم معدنیات کی سپلائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ معاہدہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی ایک بڑی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہوں گے۔
امریکی اقدامات کا پس منظر
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ چین پر اپنے انحصار کو کم کرنے کے لیے اہم معدنیات کی مقامی فراہمی کو بہتر بنانے کے منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔ اگست 2025 میں امریکی حکومت نے تانبا اور چاندی کو بھی اہم معدنیات کی فہرست میں شامل کر لیا، جس سے ان کی قومی سلامتی اور معیشت میں اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔
امریکی محکمہ توانائی کی جانب سے تقریباً ایک ارب ڈالر مختص کیے جا رہے ہیں تاکہ ان معدنیات کی کان کنی، پراسیسنگ اور مقامی صنعتوں میں استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ سب کچھ صدر ٹرمپ کے انلیشنگ امریکن انرجی منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے مواقع
یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ کا ذریعہ بنے گا بلکہ ملک کی معدنیاتی و توانائی کی صنعت کو بھی عالمی سطح پر ایک نئی پہچان دے گا۔ اس سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ، روزگار کے مواقع اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کی راہیں کھل سکتی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








