ہمالیہ کے مشہور پہاڑی سلسلے ایورسٹ کے مشرقی حصے میں شدید برفباری اور بارش نے تقریباً ایک ہزار افراد پھنس گئے ہیں جس سے انہیں شدید مشکلات سے سامنا کرنا پڑرہا ہے تاہم امدادی ٹیمیں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کے لیے سرگرم ہیں۔
برفانی طوفان جمعہ کی شام کو شروع ہوا اور ہفتہ تک جاری رہا جس کی وجہ سے سڑکیں برف سے بند ہو گئیں۔ ریسکیو ٹیمیں اور مقامی دیہاتی مل کر سڑکوں سے برف ہٹانے اور لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اب تک 350 سے زائد سیاح کدنگ نامی قصبے میں پہنچ چکے ہیں جبکہ 200 سے زیادہ افراد سے رابطہ قائم ہو چکا ہے۔ امید ہے کہ باقی لوگ جلد ہی ریسکیو ٹیموں کی مدد سے کدنگ پہنچ جائیں گے۔
پھنسے ہوئے افراد میں زیادہ تر سیاح اور کوہ پیما شامل ہیں جو چین کے قومی دن کی چھٹیوں کے دوران کرما ویلی میں تفریح کے لیے گئے تھے۔ یہ وادی ایورسٹ کے مشرقی حصے کی طرف واقع ہے اور اس کی بلندی 4200 سے 4900 میٹر کے درمیان ہے۔ شدید سردی کی وجہ سے ہائپوتھرمیا کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ایک کوہ پیما چن گیشوانگ نے بتایا کہ موسم اچانک بگڑ گیا اور سردی معمول سے زیادہ شدید ہو گئی۔ انہوں نے کہاکہ ہر طرف سردی اور نمی تھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہو رہی تھی جس سے ہمیں بہت ڈر لگاکہ ان کی 18 رکنی ٹیم کدنگ پہنچ گئی جہاں مقامی لوگوں نے انہیں گرم کھانا اور چائے پیش کی۔

ایک اور کوہ پیما ایرک وین نے بتایا کہ انہیں ہر دس منٹ بعد خیموں سے برف ہٹانی پڑتی تھی تاکہ وہ گر نہ جائیں۔ انہوں نے کہاکہ برف اتنی تیزی سے گر رہی تھی کہ ہم رات بھر سو نہ سکے۔ ان کی ٹیم کے کچھ افراد کو سردی کی وجہ سے پریشانی ہوئی لیکن سب محفوظ رہے۔

ادھر نیپال میں شدید بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب نے تباہی مچائی جس سے کم از کم 47 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ خاص طور پر بھارت کی سرحد کے قریب عالم ضلع میں سڑکیں اور پل بری طرح متاثر ہوئے۔ سیلابی پانی میں بہہ جانے سے نو افراد لاپتہ ہیں جبکہ تین افراد بجلی گرنے سے جان کی بازی ہار گئے۔

تبت کی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت ایورسٹ کے سیاحتی علاقے تک رسائی روک دی ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ ایورسٹ کے شمالی حصے میں موجود کوہ پیماؤں پر اس صورتحال کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








