سعودی عرب میں ایک شخص جس کا نام کاشی بتایا گیا ہے نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ اسے ایک چیکنگ کے دوران Tramadol گولی برامد ہونے پر گرفتار کیا گیا جوکہ ایک مخصوص درد کش دوا ہے جس پر سعودی عرب میں سخت پابندی عائد ہے۔ کاشی کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد اسے پانچ دن جیل میں رکھا گیا اور بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
کاشی نے اپنے اس واقعے کی تفصیل فیس بک اور انسٹاگرام پر شیئر کی جہاں اس نے ایک غیر سرکاری فیس بک گروپ “Ask KSA (Saudi Arabia – Information, Guide, and Q/A)” پر مدد طلب کی۔ اس نے بتایا کہ اسے گرفتاری کے تقریباً ایک ماہ بعد ناجز (Najiz) کے ذریعے عدالتی سماعت کا نوٹس موصول ہوا مگر وہ اس مقررہ تاریخ پر پیش نہ ہو سکا۔ اب وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ قانونی طور پر آگے کیا کرنا چاہیے اور اس کا کیس کس طرف جا سکتا ہے۔
View this post on Instagram
A post shared by Ask KSA – Saudi Arabia Q/A – Guide – Information – Updates (@askksa_guide)
اس فیس بک گروپ کے بارے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ کوئی سرکاری ادارہ نہیں بلکہ ایک غیر رسمی آن لائن کمیونٹی ہے جہاں لوگ سعودی عرب سے متعلق معلومات، مشورے اور سوالات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اس کا کسی سرکاری یا حکومتی ادارے سے تعلق نہیں ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ سعودی عرب میں کئی دوائیں خاص طور پر مخصوص دردکش گولیاں، بغیر ڈاکٹر کی اجازت یا نسخے کے رکھنا یا استعمال کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ اگر دوا کی ضرورت واقعی طبی ہو تو اس کے لیے صحیح میڈیکل دستاویزات کا ہونا ضروری ہے۔
سعودی عرب میں کون سی دوائیں ممنوع ہیں، اس کی مکمل فہرست جاننے کے لیے سرکاری ویب سائٹ ضرور دیکھیں۔ https://beoe.gov.pk/news-updates/89
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








