سندھ صحافیوں کیلئے مقتل گاہ بنتا جا رہا ہے؟ صحافی طفیل رند سے جینے کا حق چھین لیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

سندھ کے ضلع میرپور ماتھیلو میں بدھ کے روز پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں پریس کلب کے جنرل سیکریٹری اور صحافی طفیل رند کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کردیا جبکہ ان کے ساتھ موجود 10 سالہ بھانجی رینا شدید ذہنی صدمے کے باعث جان کی بازی ہار گئی۔

پولیس کے مطابق طفیل رند اپنی موٹرسائیکل پر بچوں کو اسکول چھوڑنے جا رہے تھے جب جیروار روڈ پر ماسو واہ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا۔ گولیاں لگنے سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔

انکی میت کو میرپور ماتھیلو کے ضلعی اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں تاہم ابھی تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق انکے ساتھ بیٹھی ہوئی کمسن بھانجی رینا جسمانی طور پر زخمی نہیں ہوئی تھی لیکن اچانک پیش آئے اس خونی منظر نے اسے شدید خوف اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا جس کے باعث وہ بھی جانبر نہ ہو سکی۔

اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے آئی جی سندھ کو واقعے کی مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

طفیل رند اور ان کی بھانجی کی المناک موت نے نہ صرف صحافی برادری بلکہ مقامی عوام کو بھی گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک بار پھر آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔

Related Posts