کراچی میں دودھ 300 نہیں بلکہ 400 روپے لیٹر! حکومت اور ڈیری فارمرز کے جھگڑے سے عوام پریشان

تازہ ترین

تازہ ترین

Rs300 per litre?: Milk Price Hike Demand Rejected by Sindh Govt
ARY News

سندھ حکومت نے ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کی جانب سے دودھ کی قیمت 300 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کسی نے اپنی مرضی سے نرخ بڑھانے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

صوبائی مشیر سعدیہ جاوید نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی دباؤ میں آ کر دودھ کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کرے گی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ ملک کے مختلف حصوں میں دودھ 200 روپے سے زائد فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے تاہم سندھ حکومت موجودہ نرخ برقرار رکھنا چاہتی ہے تاکہ عام شہریوں پر مزید بوجھ نہ پڑے۔

صوبائی مشیر نے بتایا کہ کمشنر آفس میں ہونے والے اجلاسوں میں یہ طے پایا کہ دودھ کے معیار کا جائزہ لینے کے بعد ہی قیمت کا تعین کیا جائے گا۔

سعدیہ جاوید کے مطابق ڈیری فارمرز مسلسل قیمتوں میں اضافے پر اصرار کر رہے ہیں مگر حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اگر کسی نے از خود قیمتیں بڑھائیں تو قانونی کارروائی ہوگی۔

دوسری جانب ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے ترجمان غلام شبیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے 11 اکتوبر تک دودھ کی قیمت 250 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کی ان کی تجویز قبول نہ کی تو وہ احتجاجی تحریک کا آغاز کریں گے اور عدالتوں سے رجوع کریں گے۔

غلام شبیر نے بتایا کہ چارے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو 500 سے 600 روپے فی من سے بڑھ کر 1200 روپے تک جا پہنچی ہے جس کی وجہ سے دودھ پیدا کرنے والے فارمرز شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مسائل کو نظرانداز کیا تو آئندہ برس دودھ کی قیمت 400 روپے فی لیٹر تک جا سکتی ہے۔

صوبائی مشیر سعدیہ جاوید نے اس کے برعکس دعویٰ کیا کہ کمشنر کراچی ڈیری فارمرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور مختلف محکموں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے تاکہ بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کیا جا سکے۔

ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کوئی نمائندہ کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق چونکہ دودھ ان کی پیداوار ہے، لہٰذا ان کا نمائندہ کمیٹی کا حصہ ہونا ضروری ہے۔

سعدیہ جاوید نے مزید کہا کہ قیمتوں میں اضافے سے دودھ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائے گا اور عدالتوں سے کسی رعایت کی توقع نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہونا چاہیے۔

Related Posts