راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے کورٹ میرجز اور پسند کی شادیوں میں تیزی سے اضافے کو روکنے کے لیے نیا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں مقامی حکومت کے محکمہ کی جانب سے تمام یونین کونسلز کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ عدالتوں یا تحصیل کورٹس میں ہونے والے نکاح ناموں کی رجسٹریشن فی الفور بند کر دیں۔
جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق، کسی بھی نکاح رجسٹرار یا یونین کونسل کے اہلکار نے اگر اس ہدایت کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں گرفتاری، معطلی یا نکاح رجسٹریشن لائسنس کی منسوخی جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔
انتظامیہ نے واضح کیا کہ اس حکم پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے تاکہ نکاح ناموں کے درست اندراج اور ریکارڈ کے نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے، ساتھ ہی ان سماجی مسائل کا بھی سدباب کیا جا سکے جو حالیہ برسوں میں کورٹ میرجز کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث سامنے آ رہے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ ان واقعات میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے جن میں خواتین نے گھر والوں کی رضامندی کے بغیر پسند کی شادی کی یا خلع کے ذریعے خودمختار فیصلے کیے۔
رپورٹوں کے مطابق جنوری سے ستمبر 2025 کے دوران تقریباً 1594 خواتین نے اپنی پسند سے شادیاں کیں، جن میں سے بیشتر کا تعلق راولپنڈی سے باہر کے علاقوں سے تھا۔ ان میں سے زیادہ تر خواتین راولپنڈی کی عدالتوں کا رخ کرتی تھیں، جہاں کورٹ میرج کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے تھے۔
انتظامیہ نے وضاحت کی کہ یہ پابندی نکاح رجسٹریشن کے نظام میں شفافیت، نظم و ضبط اور قانونی ذمہ داری کو یقینی بنانے کے لیے لگائی گئی ہے تاکہ کورٹ میرجز کے غلط استعمال کو روکا جا سکے اور تمام شادیوں کو باضابطہ قانونی طریقہ کار کے تحت رجسٹر کیا جا سکے۔
ضلعی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی شادیوں کی رجسٹریشن کے لیے متعلقہ یونین کونسلز سے رجوع کریں کیونکہ قانونی طریقے سے کی گئی رجسٹریشن نہ صرف دونوں فریقوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے بلکہ مستقبل میں ممکنہ قانونی پیچیدگیوں سے بھی بچاتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








