بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اہم شرط پوری کرنے کے لیے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سول سرونٹس کے اثاثہ جات کے گوشواروں کے قواعد میں ترمیم کا مسودہ جاری کیا۔
مجوزہ ترامیم کے تحت گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے تمام سرکاری افسران کے اثاثے نہ صرف ظاہر کرنا لازمی ہوں گے بلکہ انہیں عوام کے لیے بھی دستیاب کیا جائے گا، تاکہ شہری ان کے اثاثوں کی تفصیلات ان کی ملازمت کے آغاز سے لے کر موجودہ وقت تک دیکھ سکیں۔
ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق ’’پبلک سرونٹ‘‘ کی تعریف میں اب وفاقی و صوبائی حکومتوں، خودمختار اداروں اور کارپوریشنز کے تمام افسران شامل ہوں گے، تاہم قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس 1999 کے تحت مستثنیٰ افراد اس تعریف میں شامل نہیں ہوں گے۔
ایف بی آر نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے سات دن کے اندر اندر تجاویز، اعتراضات اور آراء طلب کی ہیں اور خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت کے بعد موصول ہونے والی آراء پر غور نہیں کیا جائے گا۔ یہ ترامیم انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 237 کے تحت تیار کی گئی ہیں، جن کا مقصد شفافیت اور انتظامی وضاحت کو بہتر بنانا ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا ایک مقصد اثاثہ جاتی گوشواروں کے تبادلے اور تصدیق کے نظام کو مؤثر بنانا بھی ہے، تاکہ آئی ایم ایف کے تقاضوں کے مطابق حکمرانی اور احتساب کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








