پشاور کے اسسٹنٹ پروفیسر کو ہراسانی کے الزامات میں انصاف مل گیا، برطرفی کا فیصلہ کالعدم

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور، فائل فوٹو

خیبر پختونخوا کی محتسب برائے خواتین نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے اسسٹنٹ پروفیسر کی برطرفی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں الزامات سے بری کر دیا ہے۔

محتسب کے دفتر سے جاری فیصلے کے مطابق اسسٹنٹ پروفیسر کو 17 مئی 2025 کو ایک خاتون طالبہ کی جانب سے بے بنیاد جنسی ہراسانی کے الزامات پر برطرف کیا گیا تھا، تاہم متعلقہ اسسٹنٹ پروفیسر نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف جھوٹے الزامات کے تحت یکطرفہ کارروائی کی گئی۔

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ برطرفی کا حکم ’’غیر قانونی، جانبدارانہ اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی‘‘ تھا، کیونکہ وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا الحق نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ’’سیاسی بنیاد‘‘ پر فیصلہ صادر کیا۔

محتسب نے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف لگائے گئے الزامات ثبوت سے عاری اور بلاجواز تھے۔ اس لیے برطرفی کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں سروس پر بحال کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

اسسٹنٹ پروفیسر کی اپیل سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ سید آصف جلال نے دائر کی تھی، جس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ یونیورسٹی نے انصاف کے تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے یکطرفہ کارروائی کی۔ محتسب نے اس موقف کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ الزام تراشی کے اس عمل نے استاد کے وقار کو مجروح کیا، جس کی تلافی لازم ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر یونیورسٹی مناسب سمجھے تو قانون کے مطابق ایک نیا اور غیر جانب دار انکوائری عمل شروع کر سکتی ہے، تاہم موجودہ فیصلے کی روشنی میں اسسٹنٹ پروفیسر کو الزامات سے ’’مکمل طور پر بری‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

Related Posts