سابق ڈمپر ڈرائیور اربوں روپے کے فراڈ کیس میں نیب کے ہاتھ آگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

Karachi hacker makes shocking revelations about targeting women’s phones
FILE PHOTO

قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک سابق ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے جعلی کمپنیوں کے ذریعے اربوں روپے کے فراڈ اور منی لانڈرنگ کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔

نیب خیبر پختونخوا کی ٹیم نے ملزم کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا۔ تحقیقات کے مطابق اس شخص نے براہِ راست سرکاری خزانے سے 3 ارب روپے سے زائد کی رقم ہتھیائی جبکہ مزید 16 ارب روپے مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے ذریعہ منتقل کیے۔ مجموعی اسکینڈل کی مالیت تقریباً 40 ارب روپے بتائی جا رہی ہے۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے ممتاز خان کنسٹرکشن کمپنی کے نام سے ایک جعلی تعمیراتی ادارہ قائم کیا جو دراصل سرکاری فنڈز کو کنٹریکٹرز سیکورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹ سے ہتھیانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ اکاؤنٹ عوامی منصوبوں کی تکمیل کی ضمانت کے طور پر بنایا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق، یہ شخص جو کبھی ایک عام ڈمپر ڈرائیور تھا، نے متعدد بینک اکاؤنٹس کھول کر غیر قانونی رقوم کی منتقلی کو ممکن بنایا۔ کمپنی کے اکاؤنٹس کے ذریعے جعلی لین دین کیے گئے جن میں سرکاری چیکس کی وصولی بھی شامل تھی۔

نیب حکام کے مطابق، ملزم نے منی لانڈرنگ کے لیے جدید طریقۂ کار اپنایا، جسے لیئرنگ کہا جاتا ہے، تاکہ لوٹی ہوئی رقوم کے اصل ماخذ کو چھپایا جا سکے۔

ان رقوم سے قیمتی جائیدادیں، لگژری گاڑیاں اور دیگر اثاثے خریدے گئے، جو اس کے اپنے نام، رشتہ داروں اور فرضی افراد کے نام پر منتقل کیے گئے۔

گرفتار ملزم کو پشاور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے نیب کو آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔ ادارے کے مطابق تفتیش جاری ہے اور مزید شریکِ ملزمان اور چھپائے گئے اثاثوں کی تلاش جاری ہے۔

Related Posts