ڈرامہ جمع تقسیم میں خاندانی ہراسانی کے جرات مندانہ موضوع پر ناظرین کی بھرپور داد

تازہ ترین

تازہ ترین

Drama ‘Jama Taqseem” lauded for bold storyline on family harassment
ONLINE

پاکستانی ڈرامہ سیریل جمع تقسیم کو حالیہ دنوں میں ناظرین اور سماجی حلقوں کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

یہ ڈرامہ مشترکہ خاندانی نظام میں جنسی اور نفسیاتی ہراسانی جیسے حساس اور عموماً نظر انداز کیے جانے والے مسئلے کو جرات مندانہ انداز میں پیش کر رہا ہے۔

یہ ڈرامہ ہم ٹی وی پر ہفتے میں دو مرتبہ نشر کیا جا رہا ہے۔ اسے ایم ڈی پروڈکشنز نے تیار کیا ہے، تحریر ثروت نذیر نے کی ہے جبکہ ہدایت کاری کے فرائض علی حسن نے انجام دیے ہیں۔ مرکزی کرداروں میں ماورا حسین (لیلیٰ) اور طلحہ چوہدری (قیس) شامل ہیں۔

کہانی ایک تعلیم یافتہ اور آزاد خیال لڑکی لیلیٰ کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے ہم جماعت قیس سے شادی کرتی ہے۔

قیس ایک خوشحال مگر قدامت پسند خاندانی نظام سے تعلق رکھتا ہے، جہاں پرانے رسم و رواج اور سخت روایات آج بھی غالب ہیں۔

شادی کے بعد ان دونوں کی زندگی محبت کی کمی کے باعث نہیں بلکہ خاندان کی غیر ضروری مداخلت اور پابندیوں کے سبب مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔

اس ڈرامے کی حالیہ قسط بدھ کے روز نشر ہونے کے بعد خصوصی توجہ کا مرکز بنی جس میں سدرا نامی کردار کو اس کے کزن ذیشان کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے گھر میں پیش آتا ہے جہاں بظاہر ہر رشتہ محفوظ دکھائی دیتا ہے مگر درحقیقت خواتین اور بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ذیشان اپنی خاندانی حیثیت اور طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے سدرا کو دباؤ میں رکھتا ہے اور خاندان کے بڑے افراد اس کی پریشانی کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ایک موقع پر سدرا کی والدہ خود اس واقعے کو معمولی قرار دیتی ہیں اور یہ کہہ کر معاملہ ٹال دیتی ہیں کہ کزن تو بہنوں کو چھیڑتے ہیں جو معاشرتی رویوں پر سخت تنقید کا باعث بنا۔

 

ڈرامہ اس پہلو کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام میں قریبی رشتہ داروں کو بھائی بہن کہہ کر پیش کرنا اکثر حدود کے دھندلے پن کو جنم دیتا ہے جس کے باعث ہراسانی کے واقعات یا تو چھپائے جاتے ہیں یا نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔

ڈرامے کی حالیہ قسط کے بعد متعدد ناظرین نے اپنے ذاتی تجربات سوشل میڈیا پر شیئر کیے، جس سے یہ سیریل ایک سماجی تحریک کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق جمع تقسیم نہ صرف خاندانی نظام میں چھپے مسائل کو سامنے لا رہا ہے بلکہ معاشرتی سوچ میں تبدیلی کی راہ بھی ہموار کر رہا ہے۔

Related Posts