اورکزئی میں7 اور8 اکتوبر کو ہونے والے شدید حملے میں ملوث 30 بیرونی حمایت یافتہ دہشتگردوں کو پاک فوج کی کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔
ان حملوں میں لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق اور میجر طیب راحت سمیت گیارہ افواجِ پاکستان کے اہلکار شہید ہوئے جبکہ متعلقہ سکیورٹی حکام نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کا تعلق فتنہ الخوارج نامی نیٹ ورک سے تھا جو فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنا کر علاقے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس آپریشن کے دوران دشمن کو بھاری نقصان پہنچا اور ان کے نیٹ ورک کی کارروائیوں کو اس خطے میں کافی حد تک نقصان پہنچا دیا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق (عمر 39، رہائشی ضلعی راولپنڈی) نے اپنے جوانوں کے ساتھ شجاعت سے قیادت کرتے ہوئے شہادت پائی جبکہ ان کے معاون میجر طیب راحت (عمر 33، رہائشی ضلعی راولپنڈی) بھی اسی عزم و ہمت کے ساتھ جان دے گئے۔
شہداء میں نو بہادر سپاہیوں کے نام اور اضلاع یہ ہیں،نائب صوبیدار اعظم گل (عمر 38، ضلع خیبر)، نائک عادل حسین (عمر 35، ضلع کرم)، نائک گل امیر (عمر 34، ضلع ٹانک)، لانس نائک شیر خان (عمر 31، ضلع مردان)، لانس نائک طالش فراز (عمر 32، ضلع مانسہرہ)، لانس نائک ارشد حسین (عمر 32، ضلع کرم)، سپاہی طفیل خان (عمر 28، ضلع ملاکنڈ)، سپاہی عقیق علی (عمر 23، ضلع صوابی) اور سپاہی محمد زہد (عمر 24، ضلع ٹانک) شامل ہیں۔
سکیورٹی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سکیورٹی فورسز ملک کے ہر گوشے سے دہشت گردی کے خاتمے تک اپنی جنگ جاری رکھیں گی اور اس کارروائی کو علاقائی امن کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








