نوبیل امن کمیٹی نے سال 2025ء کے لیے امن انعام کے حقدار کا اعلان کر دیا ہے، جس کے مطابق یہ اعلیٰ ترین عالمی اعزاز وینزویلا کی معروف سیاست دان ماریہ کورینا ماچاڈو کے حصے میں آیا ہے۔
کمیٹی نے ان کی جمہوریت، انسانی حقوق، اور سیاسی آزادی کے لیے طویل جدوجہد کو سراہتے ہوئے انہیں نوبیل امن انعام سے نوازا۔
ماریہ کورینا ماچاڈو جنہیں وینزویلا میں حزبِ اختلاف کی ایک توانا آواز کے طور پر جانا جاتا ہے، نے 2011ء سے 2014ء تک وینزویلا کی قومی اسمبلی کی رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔
وہ اپنے ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ، انسانی وقار کے دفاع، اور آمریت کے خلاف استقامت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
ماچاڈو الیجینڈرو پلاز کے ساتھ وینزویلا کی ایک شہری رضاکار تنظیم سمیٹ کی بانی اور سابق رہنما بھی رہ چکی ہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں بی بی سی نے انہیں 2018ء کی 100 بااثر خواتین کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
7 اکتوبر 1967ء کو کاراکاس، وینزویلا میں پیدا ہونے والی ماریہ کورینا چار بہنوں میں سب سے بڑی ہیں۔ ان کے والد ہنریک ماچاڈو زولواگا اسٹیل کے ایک ممتاز صنعت کار جبکہ والدہ کورینا پیرسکا ایک ماہر نفسیات تھیں۔
ان کا خاندانی پس منظر بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے آبا و اجداد میں ایڈورڈو بلانکو شامل ہیں، جو 1881ء میں لکھے گئے وینزویلا کے کلاسک ناول ہیروکا کے مصنف تھے۔ ان کے خاندان کے ایک رکن نے وینزویلا کے مشہور آمر خوان ویسنٹ گومز کے خلاف بغاوت میں جان دی تھی۔
ماچاڈو نے آندرے بیلو کیتھولک یونیورسٹی سے صنعتی انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں انسٹی ٹیوٹو ڈی ایسٹوڈیوس سپیریورس ڈی ایڈمنسٹریشن (آئی ای ایس اے) سے فنانس میں ماسٹرز کیا۔ وہ 2009ء میں ییل یونیورسٹی کے ورلڈ فیلوز پروگرام کا بھی حصہ رہ چکی ہیں۔
انہیں 2006ء میں امریکی جریدے نیشنل ریویو نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ان خواتین میں شامل کیا تھا جنہوں نے دنیا بھر میں مشکلات کے باوجود جرات اور استقامت کی مثال قائم کی۔
ماریہ کورینا ماچاڈو کا نوبیل امن انعام جیتنا نہ صرف وینزویلا بلکہ لاطینی امریکا کی خواتین کے لیے بھی فخر کا لمحہ قرار دیا جا رہا ہے، جو اپنے معاشروں میں آزادی اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








