افواج پاکستان کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ ملکر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔
پشاور میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے غیور عوام بہادری سے دہشت گردی کا مقابلہ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام 2 دہائیوں سے دہشت گردی کے ناسور سے نمٹ رہے ہیں۔ ہماری بہادر سپوتوں نے اپنے خون سے تاریخ رقم کی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں شہید ہونیوالوں کو سلا م پیش کرتے ہیں۔سال 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 535انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کئے گئے۔روزانہ کئے جانیوالے آپریشنز کی تعداد میں 40 ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں پاکستانیوں اور سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے اپنے خون سے وطن کو محفوظ بنایا ہے۔
رواں سال خیبر پختونخوا میں 10 ہزار 115انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کئے جاچکے ہیں ،700 سے زائد دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 2024 کے دوران 577 افراد شہید ہوئےشہدا میں 272فوجی جوان، 140پولیس اہلکار اور 165شہری شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں کو بھارت کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، اگر ہر مسئلے کا حل بات چیت سے ہوتا تو جنگیں نہ ہوتیں، افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔
دہشت گردی کے معاملے پر سیاست کی گئی اور قوم کو الجھایا گیا۔ دہشت گردی کے پیچھے گٹھ جوڑ کو مقامی اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔
دہشت گردی میں اضافے کی وجوہات نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عملدرآمد نہ ہونا ہے۔منصوبے کے تحت دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو اسپیس دی گئی۔دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے 14 نکات پر اتفاق ہوا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کیلئے افغانستان کو استعمال کررہا ہے، تمام جماعتوں نے اتفاق کیا کہ دہشت گردی کو ختم کرنا ہے۔
امریکا افغانستان میں 7 اعشاریہ 2 ارب ڈالر کے ہتھیار چھوڑ کر گیا۔حکومت کہتی ہے افغان بھائی واپس جائیں تو اس پر بھی مخالف بیانیہ بنادیا جاتا ہے۔
بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اس وقت عوام نے کیوں نہیں کہا کہ بات چیت کرلیں؟ افغان مہاجرین کے حوالے سے گمراہ کن باتیں کی جاتی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے پیچھے ٹیررکرائم نیکسزہیں۔ خیبر پختونخوا میں جان بوجھ کر دہشت گردوں کو جگہ دی گئی۔ گورننس کی ناکامی اور سیاسی پشت پناہی کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔
پنجاب اور سندھ میں گورننس قائم ہے، ان صوبوں میں پولیس اور سیکورٹی ادارے کام کررہے ہیں، سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے زیادہ واقعات خیبر پختونخوا میں ہی کیوں ہوتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے عوام بیڈ گورننس اور مجرمانہ سیاسی پشت پناہی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ اب اسٹیٹس کو نہیں چلے گا، ریاست کیخلاف بیانیہ بنایا جارہا ہے، ہمارے جوان قربانیاں دے رہے ہیں۔
کسی فرد واحد کو عوام کی جان و مال کاسودا کرنے اجازت نہیں دی جاسکتی، خیبر پختونخوا کی عدالتوں سے دہشت گردوں کو سزائیں کیوں نہیں ملتیں؟
دہشت گردوں کے سہولت کار کسی بھی عہدے پر ہوں ان کیخلاف کارروائی کی جائیگی، سہولت کاروں کیلئے زمین تنگ کردی جائیگی۔
ریاست، فوج اور ادارے کسی قسم کا گٹھ جوڑ برداشت نہیں کرینگے۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے پاس 3 راستے ہیں۔ خوارجیوں کے سہولت کار بھرپور ایکشن کیلئے تیار ہوجائیں۔ سہولت کار خوارجیوں کو ریاست کے حوالے کردیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








