خواجہ تعریف عرف طیفی بٹ انجام کو پہنچا! جانیں جرائم کی دنیا کا یہ کردار کون تھا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

لاہور پولیس کو مطلوب امیر بالاج ٹیپو قتل کیس کا مرکزی ملزم طیفی بٹ اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ پولیس کے مطابق، طیفی بٹ کو گرفتاری کے بعد پاکستان واپس لایا گیا تھا لیکن وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

تفصیلات کے مطابق طیفی بٹ کو بیرون ملک سے گرفتار کرکے لاہور لایا جا رہا تھا کہ سنجر پور کے قریب اس کے مسلح ساتھیوں نے پولیس کی ٹیم پر حملہ کر دیا۔ دو کاروں میں سوار حملہ آوروں نے طیفی بٹ کو چھڑانے کے لیے شدید فائرنگ کی اور اسے پولیس کی حراست سے آزاد کرکے فرار ہوگئے۔ اس جھڑپ کے دوران پولیس کانسٹیبل نور حسن زخمی ہوگئے تاہم رحیم یار خان میں سی سی ڈی پولیس کے ساتھ مبینہ مقابلے کے دوران طیفی بٹ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ خیال رہے کہ طیفی بٹ، جو امیر بالاج ٹیپو کے قتل کے بعد بیرون ملک فرار ہوگیا تھا حال ہی میں پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

طیفی بٹ کون تھا؟

طیفی بٹ جس کا پورا نام خواجہ تعریف تھا اور ان کے پھوپھی زاد بھائی خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ لاہور کے انڈر ورلڈ میں بدنام زمانہ نام تھے۔ یہ دونوں خود کو کاروباری ظاہر کرتے تھے لیکن ان کا زیادہ تر تعلق زمینوں پر ناجائز قبضوں، بھتہ خوری اور دیگر جرائم سے جوڑا جاتا تھا۔ وہ اپنے ٹھکانوں پر اشتہاری ملزمان اور جرائم پیشہ افراد کو پناہ دیتے اور انہیں اپنے غیر قانونی کاموں کے لیے استعمال کرتے تھے۔

سنہ 1994 میں جب بلّا ٹرکاں والا کے قتل کے بعد دو ملزمان حنیف اور شفیق نے طیفی بٹ کے پاس پناہ لی تو اس واقعے نے ٹیپو ٹرکاں والا کے خاندان کے ساتھ ان کی دشمنی کی بنیاد رکھی۔ کہا جاتا ہے کہ ٹیپو نے براہ راست سامنے آنے کے بجائے حنیف اور شفیق کو پولیس مقابلے میں ہلاک کروایا۔ اس کے بعد ٹیپو پر کئی قاتلانہ حملے ہوئے جن میں کرائے کے شوٹرز اور اشتہاری ملزمان ملوث تھےلیکن ان حملوں کا سراغ طیفی اور گوگی بٹ کے گینگ تک جاتا تھا۔

سنہ 2003 میں لاہور کچہری کے قریب ٹیپو ٹرکاں والا پر ایک بڑا حملہ ہوا جس میں ان کے پانچ محافظ مارے گئے اور وہ خود شدید زخمی ہوئے۔ اس حملے کا الزام بھی طیفی اور گوگی بٹ پر لگا۔ اس واقعے کے بعد ٹیپو نے اپنے خاندان کو دبئی منتقل کر دیا اور خود بھی کچھ عرصے کے لیے ملک سے باہر چلے گئے تاہم جب وہ دبئی سے واپس لاہور ایئرپورٹ پہنچے، تو ایک مسلح شخص نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے وہ زخمی ہوئے اور اسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی موت کے بعد ان کا خاندان، بشمول ان کا بیٹا امیر بالاج ٹیپو دبئی سے واپس لاہور آگیا۔

طیفی بٹ اور گوگی بٹ کے گینگ کی سرگرمیاں لاہور کے انڈر ورلڈ میں کئی برسوں تک جاری رہیں اور ان کی پولیس کو زمینوں پر قبضوں اور بھتہ خوری جیسے جرائم میں مسلسل مطلوبیت رہی۔

Related Posts