نوبل پرائز کا حقیقی حقدار میں ہوں! ماریا کورینا میری عزت کیلئے ایوارڈ قبول کیا، ٹرمپ کا دعویٰ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ نوبل انعام یافتہ ماریا کورینا ماشادو نے انہیں بتایا کہ وہ یہ انعام ان کی عزت میں قبول کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے انہیں یہ انعام دینے کی درخواست نہیں کی البتہ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید انہوں نے خود ایسا سوچا ہو۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ نوبل انعام حاصل کرنے کی خواہش کبھی چھپائی نہیں۔ کچھ عالمی رہنماؤں نے بھی کہا ہے کہ وہ اس کے مستحق ہیں۔ ان مطالبات میں مزید شدت آئی ہے جب ان کا غزہ امن منصوبہ منظر عام پر آیا۔ بہرحال نوبل انعامات کی ویب سائٹ کے مطابق اس سال کی نامزدگی کی ونڈو جنوری کے آخر تک بند ہو جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جمعے کو انہوں نے ماریا کورینا ماشادو سے بات کی جو نوبل امن انعام حاصل کرنے والی ہیں۔ اس انعام میں انہیں وینیزویلا میں جمہوری حقوق کے فروغ اور آمریت سے جمہوریت کی جانب پرامن تبدیلی کی جدوجہد کی وجہ سے تسلیم کیا گیا۔

ماریا کورینا نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے ٹرمپ سے بات کی مگر اس گفتگو کی تفصیلات افشا کرنے سے گریز کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے بات کے دوران ان کے رویے کو بہت نرم قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ جس شخص نے واقعی نوبل انعام حاصل کیا اس نے آج مجھے کہا کہ میں یہ انعام آپ کی عزت میں قبول کر رہی ہوں کیونکہ آپ اس کے حقیقی حقدار ہیں۔ یہ بہت اچھا کام ہے میں نے نہیں کہا کہ تو پھر مجھے دو البتہ میری رائے ہے کہ شاید وہ ایسا چاہتی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ماشادو کی مدد کی ہے کیونکہ وہ وینیزویلا کی صورتِحال کو مکمل تباہی قرار دیتے ہیں۔ امکان ہے کہ انہوں نے انعام نہ ملنے کے فیصلے پر نوبل کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہو اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی ان کی کمیٹی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ ان کا فیصلہ سیاست کو امن پر ترجیح دینے کا ثبوت ہے۔

Related Posts