نوبل امن انعام دینے والی نارویجین کمیٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2025 کا انعام نہ دینے کی وجہ واضح کر دی ہے۔ کمیٹی کے مطابق فیصلہ کسی سیاسی دباؤ، مہم یا میڈیا کی توجہ کے تحت نہیں بلکہ صرف میرٹ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نوبل انعام کے لیے نامزدگیاں ہر سال 31 جنوری تک مکمل ہوتی ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو صدر بنے یعنی وہ مقررہ وقت پر مکمل کارکردگی دکھانے کا موقع نہیں پا سکے۔
کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی حالیہ سرگرمیاں نوبل انعام کے سخت معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انعام کسی کی مہم، شہرت یا سیاسی مقام کے بجائے خالص کارکردگی پر دیا جاتا ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے نوبل انعام کے لیے کھلم کھلا مہم چلانا بھی ان کے حق میں نہیں گیا کیونکہ کمیٹی ایسی کوششوں کو منفی نظر سے دیکھتی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ آخری لمحات کی کوئی ڈیل یا دباؤ ان کے فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ٹرمپ کیلئے ان کے دوسرے صدارتی دور میں اشرافیہ کی جانب سے ایک اور علامتی مستردی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ نارویجین نوبل کمیٹی 1897 میں ناروے کی پارلیمنٹ نے قائم کی تھی اور اس کا واحد کام نوبل امن انعام کے حقدار کا انتخاب کرنا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








