لاہور: پنجاب میں مذہبی جماعت کے احتجاج اور سیکورٹی خدشات کے باعث پیر 13 اکتوبر کو تعلیمی اداروں کے کھلنے یا بند رہنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
شہریوں، والدین اور طلبہ میں اس حوالے سے شدید بے چینی پائی جا رہی ہے کیونکہ لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں مرکزی شاہراہیں بند ہونے سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایک روز قبل صوبائی حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے لانگ مارچ کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کے طور پر تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
اسی تناظر میں پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے بھی ہفتے کے روز متاثرہ علاقوں میں تعطیل کا اعلان کیا۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں احتجاج کے باعث ریڈ زون سمیت کئی اہم داخلی و خارجی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ رات گئے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بھی غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہیں۔
فیض آباد انٹرچینج، زیرو پوائنٹ اور ایکسپریس وے جزوی طور پر بند ہیں جبکہ لاہور تا اسلام آباد موٹروے (ایم 2) کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح اسلام آباد میں سیری نا چوک، ایکسپریس چوک، نادرا چوک اور میریٹ چوک کے اطراف کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں جبکہ راول ڈیم چوک اور ناز سینما کے اطراف راستے بھی بند ہیں۔
راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والی میٹرو بس سروس معطل کر دی گئی ہے جبکہ لاہور میں اورنج لائن ٹرین سروس کو علی ٹاؤن سے ڈیرہ گجراں تک بند کر دیا گیا ہے۔
لاہور میں تمام اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں بند ہیں۔ جامعات میں جاری کلاسز منسوخ کر دی گئی ہیں اور طلبہ کو فوری طور پر ہاسٹلز خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت عوامی اجتماعات اور غیر ضروری نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے ہفتہ اور اتوار کے دو دن صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے رکھے ہیں۔ اگر سیکورٹی خدشات برقرار رہے تو امکان ہے کہ پیر 13 اکتوبر کو بھی تعلیمی ادارے بند رہیں تاہم حتمی فیصلہ حکومت صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کرے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








