سعد رضوی سے متعلق متضاد اطلاعات! کراچی میں حالات سخت کشیدہ ہوگئے

تازہ ترین

تازہ ترین

Maryam government decides to recommend federal ban on TLP; leaders to be placed in Fourth Schedule, assets seized
(فوٹو؛ فائل)

پنجاب میں تحریک لبیک پاکستان کے امیر علامہ سعد رضوی کے گولی لگنے کے بعد انتقال کرنے کی متضاد اطلاعات کے بعد کراچی میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں جس کے باعث شہر میں کشیدگی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ پیر 13 اکتوبر کو قومی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مختلف علاقوں میں مظاہروں کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی متحرک ہو گئے ہیں اور پولیس نے ہنگامہ آرائی کے خدشے کے پیشِ نظر 5 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق فور کے چورنگی کے قریب مظاہرین نے احتجاج کے دوران سڑک پر کچرا پھینک دیا جبکہ نیو کراچی سے گڈاپ جانے والی سڑک پر جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی وجہ سے ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی۔ مظاہرین نے نیو کراچی کے علاقے میں سندھی ہوٹل کے قریب بازاروں کو زبردستی بند کرانے کی کوشش بھی کی۔

صورتحال کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری نیو کراچی میں تعینات کی گئی ہے۔مظاہروں اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہونے پر پولیس نے 5 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ شہر میں حالات دوبارہ کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ مختلف ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی سڑکیں بند ہیں اور لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو رہے ہیں۔ متعدد صارفین کا دعویٰ ہے کہ “کرین پارٹی” کے کارکن مختلف علاقوں میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

شہر کی صورتحال پر پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم شہریوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور تصدیق شدہ ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔

Related Posts