ملک میں مقیم افغان باشندوں کی قانونی حیثیت اور مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ وزارتِ داخلہ نے پیر 13 اکتوبر کو ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں پی او آر (Proof of Registration) کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کی قانونی پوزیشن کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس اجلاس میں نادرا، چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، آئی جیز، گلگت بلتستان و آزاد کشمیر کے نمائندے، ڈی جی ایف آئی اے، چیف کمشنر اسلام آباد اور حساس اداروں کے حکام شریک ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ پی او آر کارڈ ہولڈرز کے قیام میں مزید توسیع کی جائے یا ان کی وطن واپسی کے لیے کوئی حتمی پالیسی تیار کی جائے۔ واضح رہے کہ پی او آر کارڈ افغان مہاجرین کو پاکستان میں ویزہ کے بغیر قانونی طور پر رہنے کی اجازت دیتا ہے۔ فی الحال ملک میں ایسے کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کی تعداد تقریباً 13 لاکھ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2023 سے اب تک 10 لاکھ افغان شہری پاکستان چھوڑ کر واپس افغانستان جا چکے ہیں۔
اجلاس میں پی او آر کارڈز کی مدت، ممکنہ توسیع، منسوخی یا قانونی کارروائی کے امکانات پر بھی غور متوقع ہے۔ ان فیصلوں کا تعلق نہ صرف مہاجرین کی مینجمنٹ بلکہ ملک کی داخلی سیکیورٹی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اجلاس کے بعد متعلقہ اداروں کو نئی پالیسی پر فوری عملدرآمد کے لیے ہدایات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس کارروائی میں رینجرز، سی ٹی ڈی اور پولیس نے حصہ لیا جبکہ آپریشن کی قیادت ڈی ایس پی اورنگزیب خٹک کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، آپریشن کے دوران کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی وفاقی حکومت کی جانب سے افغان باشندوں کی واپسی سے متعلق پالیسی کے تحت کی جا رہی ہے۔ زیر حراست افراد کے کوائف اور شناختی دستاویزات کی تصدیق کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
آپریشن کا مقصد غیر قانونی افراد کی نشاندہی، جعلی شناختی دستاویزات کا خاتمہ اور شہر میں امن و امان کو یقینی بنانا ہے۔ پولیس نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مؤثر اقدامات کر سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








