وفاق پر تنقید، اپنے حلقے میں کالعدم پی ٹی ایم پر مقدمات! سہیل آفریدی کا دوہرا معیار؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

خیبرپختونخوا کے نو منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ کا نام فورتھ شیڈول سے نکالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے وفاقی حکومت سے بات کی کی جائے گی۔

نو منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے متعلق کہا کہ تحریک کو بغیر کسی واضح وجہ کے کالعدم قرار دیا گیا ہے اور اس کے کارکنان کے نام شیڈول فور میں شامل کیے گئے ہیں۔

انہوں نے موقف اپنایا کہ پی ٹی ایم کے معاملے پر وفاقی حکومت سے بات کریںگے تاکہ یہ جان سکیں کہ آخر کن بنیادوں پر ایسی کارروائی کی گئی خاص طور پر جب متاثرہ افراد کا کسی پرتشدد سرگرمی سے تعلق تک نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کے ارکان پر ایسے الزامات لگائے جا رہے ہیں جو ان کے مزاج سے بالکل میل نہیں کھاتے۔ انہوں نے طنزاً پوچھا کہ ایسے لوگ جو ہتھیار چلانے سے بھی ناواقف ہیں انہیں دہشت گردی کی فہرست میں کیوں شامل کیا گیا؟

سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بریفنگ طلب کریں گے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ کہ پشتون تحفظ موومنٹ سے متعلق اپنے موقف پر مکمل وضاحت رکھتے ہیں اور ماضی میں اس تحریک کے جرگے میں بھی شریک ہو چکے ہیں۔

تاہم دوسری جانب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے حامیوں نے انہیں یاد دلایا کہ وفاقی حکومت سے بات چیت بعد میں کرنا پہلے اپنے ہی حلقے میں درج پی ٹی ایم کے رہنماؤں پر درج مقدمات ختم کیے جائیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر پی ٹی ایم کے حامی صارف نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ صرف بیانات نہیں، عمل سے بھی ثابت کیجیے کہ آپ واقعی پشتون قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ خیبر پختونخوا قومی جرگے کے خلاف جو جھوٹی اور انتقامی ایف آئی آرز آپ کے اپنے حلقے میں درج ہیں انہیں فوری طور پر ختم کروانا آپ کی سیاسی اور قومی ذمہ داری ہے۔

آپ نے آج کھل کر ریاستی جبر اور منظور پشتین و تحریکِ تحفظِ پشتون کے خلاف ہونے والے ظلم کی مذمت کی، اب اس موقف کو عملی ثبوت میں بدلیں۔

صارفین نے کہا کہ اگر آپ واقعی حق اور انصاف کے داعی ہیں تو اپنے حلقے سے ان سیاسی انتقام پر مبنی مقدمات کا خاتمہ کر کے قوم کو بتائیں کہ آپ کے الفاظ صرف نعرے نہیں کردار بھی ہیں۔

معروف

یوٹیوبر صدیق جان نے کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نے ریاستی جبر اور منظور پشتین و پی ٹی ایم کے خلاف کارروائیوں پر جو موقف اختیار کیا ہے، اب وقت ہے کہ وہ اس کو صرف الفاظ تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس پر عملی اقدامات بھی کریں تاکہ عوام کو یہ یقین ہو کہ وہ صرف باتیں نہیں بلکہ کردار سے بھی جدوجہد کا حصہ ہیں۔

 

Related Posts