سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے سیاسی کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ایک بیان میں مصطفیٰ نواز کھوکھر نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی چھوٹی سی خواہش کیا ہے؟ اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کے ارکان اُنھیں توڑ کر دے تاکہ وہ اپنے بھائی کو وزیر اعلیٰ بنا سکیں۔ایک بندہ بھی نہیں ٹوٹا۔
مولانا فضل الرحمان کی چھوٹی سی خواہش کیا ہے؟ اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کے ممبر اُنھیں توڑ کر دے تاکہ وہ اپنے بھائی کو وزیر اعلیٰ بنا سکیں۔ ایک بندہ بھی نہیں ٹوٹا۔
۲۶ ترمیم ہو یا مشرف کا ایل۔ایف۔او، ہر موقع پر مولانا حلوہ کھانے کے لئیے فوراً تیار ہو جاتے ہیں بشرطیکہ میٹھے کا تناسب…
— Mustafa Nawaz Khokhar (@mustafa_nawazk) October 14, 2025
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مزید کہا کہ مولانا کا سیاسی رویہ ہمیشہ موقع پرستی پر مبنی رہا ہے اور وہ ہر بڑے آئینی یا سیاسی موقع پر حلوہ کھانے کے لیے فوراً تیار ہو جاتے ہیں بشرطیکہ میٹھے کا تناسب ٹھیک ہو۔
26ویں آئینی ترمیم میں کردار
ماضی میں مولانا فضل الرحمان کے مختلف آئینی معاملات میں موقف پر بحث کی جا رہی ہے۔ 2019 میں پیش کی گئی 26ویں آئینی ترمیم جو سابق قبائلی علاقوں (فاٹا) کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد اُن کی نمائندگی کے لیے نشستوں میں اضافے سے متعلق تھی اس پر مولانا کی جماعت نے پہلے مخالفت کی اور پھر مشروط حمایت کا اشارہ دیا جس پر ناقدین نے الزام لگایا کہ جے یو آئی (ف) کا مؤقف مفادات کے تابع ہوتا ہے۔
مشرف دور میں ایل ایف او کی حمایت
پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں 2002 کے انتخابات کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جماعت نے متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے بینر تلے اقتدار میں شمولیت اختیار کی۔ اس وقت ایل ایف او (Legal Framework Order) جیسے متنازع صدارتی حکم کو پارلیمنٹ کا حصہ بنانے کے لیے مشرف حکومت کو سیاسی حمایت درکار تھی۔ باقی اپوزیشن جماعتیں اس کی شدید مخالفت کر رہی تھیں مگر ایم ایم اے اور بالخصوص مولانا فضل الرحمان نے بالواسطہ حمایت فراہم کی جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا منصب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت حاصل کی گئی۔
سیاسی تجزیہ
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا طرزِ سیاست مذہبی بیانیے کے ساتھ ساتھ سیاسی سودے بازی پر مبنی رہا ہے۔ حامی انہیں سیاست کے ماہر قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین ان پر سیاسی موقع پرستی اور مفاداتی سیاست کے الزامات عائد کرتے ہیں۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر کے اس حالیہ طنز نے ایک بار پھر مولانا کے سیاسی ماضی کو تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔ آیا مولانا فضل الرحمان اس بیان کا باضابطہ جواب دیں گے یا حسبِ روایت خاموشی اختیار کریں گے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








