دہشت گردی کا مقدمہ! پولیس نے سراغ لگالیا، سعد اور انس رضوی کی گرفتاری جلد متوقع

تازہ ترین

تازہ ترین

Maryam government decides to recommend federal ban on TLP; leaders to be placed in Fourth Schedule, assets seized
ONLINE

راولپنڈی، ٹیکسلا، راوت اور مریدکے کے مختلف تھانوں میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے متعدد کارکنان کے خلاف دہشت گردی، اقدامِ قتل اور دیگر سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق ان مظاہرین نے احتجاج کے دوران مسلح تصادم کیا، پولیس پر فائرنگ کی اور تشدد کے نتیجے میں ایک ایس ایچ او جاں بحق جبکہ کئی اہلکار زخمی ہوئے۔

ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر حملہ کرتے ہوئے گولیاں چلائیں، پیٹرول بم اور کیل دار ڈنڈے استعمال کیے جس کے نتیجے میں پولیس انسپکٹر گولی لگنے سے موقع پر شہید ہو گئے جبکہ متعدد افسران زخمی ہوئے۔

راوت تھانے میں درج مقدمے میں دہشت گردی، اقدامِ قتل، لوٹ مار اور تشدد پر اکسانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

پولیس کے بیان کے مطابق سعد رضوی کے ساتھ کم از کم 21 ٹی ایل پی رہنماؤں اور کارکنان کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 35 نامعلوم افراد کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ مظاہرین نے پولیس کی گاڑیاں توڑ دیں، سڑکیں بلاک کیں، گیس شیلز اور گولیاں چھین لیں اور پولیس وردیاں پھاڑ دیں۔ موقع سے 10 کیل دار ڈنڈے، 4 پیٹرول بم، ٹی ایل پی کے جھنڈے، پتھر، اور گولیوں کے خول برآمد ہوئے۔

مریدکے میں ایک علیحدہ مقدمہ درج کیا گیا جس میں انسپکٹر شہزاد جومات کی ہلاکت اور کئی افسران کے زخمی ہونے کا ذکر شامل ہے۔

یہ مقدمہ سٹی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے جس میں 33 دفعات شامل کی گئی ہیں، جن میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب پولیس نے امیر تحریک لبیک پاکستان سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی کا سراغ لگالیا ہے اور دونوں کی گرفتاری جلد متوقع ہے۔

Related Posts