پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک (PMN) کے زیر اہتمام اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صنعتی ترقی (UNIDO) اور سندھ کے دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے و جامع ترقی کے پروگرام (PAIDAR) کے اشتراک سے سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس (AMC) کا نواں ایڈیشن کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔
تین روزہ اجلاس “Renaissance of Microfinance” کے عنوان سے منعقد ہوا، جس نے پاکستان کے مالی شمولیتی نظام کے مستقبل کو ازسرِنو تشکیل دینے کیلئے نئی راہیں کھول دیں۔ کانفرنس میں پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، بینکنگ ماہرین، مائیکروفنانس اداروں، بیمہ کمپنیوں، فِن ٹیک انویٹرز، اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غربت کے خاتمے، استحکام اور جامع ترقی میں مائیکروفنانس ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
چیئرمین پی ایم این عامر خان نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ “جامع ترقی کیلئے مائیکروفنانس کے دائرے کو مزید وسعت دینا وقت کی ضرورت ہے۔” پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے منیر کمال نے اس شعبے کے ارتقاء اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مضبوط اشتراک پر زور دیا۔
یورپی یونین کے نمائندے کارلو ڈی روزا نے اپنی تقریر میں کہا کہ “ہم پاکستان کے دیہی علاقوں میں مساوی ترقی کیلئے طویل مدتی عزم رکھتے ہیں۔” ان کے مطابق خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور بے زمین کاشتکاروں کیلئے مالیاتی مواقع بڑھانے میں گرانٹس اور رعایتی قرضوں کا امتزاج فیصلہ کن ثابت ہوگا۔
کانفرنس کے دوران دو بڑی سہولتوں کا اعلان کیا گیا۔
پہلی ایشیائی ترقیاتی بینک نے خواتین انٹرپرینیورز کیلئے 30 ملین ڈالر کی کریڈٹ گارنٹی سہولت متعارف کرائی، جس سے کاروباری قرضوں تک خواتین کی رسائی میں اضافہ ہوگا۔
دوسری یونیڈو اور اس کے شراکت داروں نے “رورل انٹرپرائز فنانس اسکیم” کے نام سے گارنٹی پر مبنی بلینڈڈ فنانس سہولت کا آغاز کیا، تاکہ دیہی طبقے کے لیے قرضوں تک آسان رسائی فراہم کی جا سکے۔
ایس ای سی پی کے کمشنرز ذیشان خٹک اور مجتبیٰ لودھی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ریگولیٹری فریم ورک کو لچک دار بنا کر مائیکرو انشورنس اور مالیاتی جدت کو فروغ دیا جائے گا۔
اسی طرح اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے زور دیا کہ چھوٹے کاشتکاروں اور ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ طبقات کے لیے پائیدار مالیاتی حل تیار کرنا ناگزیر ہے۔
کانفرنس کا سب سے اہم ایونٹ “سندھ مالی منظرنامہ: جامع مالیات کے فروغ کی طرف قدم” رہا، جس میں سندھ کے دیہی علاقوں میں مالی خدمات کی رکاوٹوں اور مواقع کا جامع تجزیہ پیش کیا گیا۔
یہ کانفرنس نہ صرف دیہی معیشت کیلئے نئی امیدوں کا پیغام بنی بلکہ مائیکروفنانس کے ذریعے ایک ایسے مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھنے کی نوید بھی سنائی جہاں ترقی، خوشحالی اور مالی انصاف سب کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








