کراچی کی مقامی عدالت نے ایک ایسے شخص کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے اپنی سابقہ اہلیہ کو ہراساں کرتے ہوئے اس کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز اس کے بھائی کو بھیجیں۔
یہ مقدمہ کراچی کے ضلع وسطی کی ایک عدالت میں زیرِ سماعت تھا۔
ابتدائی معلوماتی رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق ملزم جنید پر الزام ہے کہ اس نے اپنی سابقہ اہلیہ کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز اس کے چھوٹے بھائی کو بھیج کر بدنام کرنے کی کوشش کی۔
متاثرہ خاتون نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو بتایا کہ اس نے ملزم پر بھروسہ کر کے اس سے شادی کی تھی مگر علیحدگی کے بعد اس نے انتقامی کارروائی کے طور پر اس کی ذاتی زندگی کو نشانہ بنایا۔
دورانِ سماعت ملزم کے وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ خاتون نے خلع کا مقدمہ دائر کرنے کے باوجود کچھ عرصہ تک اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہائش اختیار کیے رکھی اور یہ کہ وہ خود ہی ویڈیوز اپنے بھائی کو بھیج کر ملزم کو پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ویڈیوز بھیجنے کے لیے استعمال ہونے والا فون نمبر ملزم جنید کے نام پر رجسٹرڈ ہے جس کی تصدیق فرانزک رپورٹ سے بھی ہو چکی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ تفتیش کے تمام قانونی مراحل درست انداز میں مکمل کیے گئے ہیں اور فرانزک شواہد میں کسی قسم کی بے ضابطگی سامنے نہیں آئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور مقدمے کے حقائق ضمانت کے اہل نہیں بنتے۔ چنانچہ ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








