پاکستان نے نئی افغان قیادت کی حمایت کا اشارہ دے دیا، طالبان مخالف افغان حلقوں کا خیرمقدم

تازہ ترین

تازہ ترین

طالبان مخالف افغان لیڈر احمد مسعود، فائل فوٹو

افغانستان کی عبوری حکومت کی جانب سے پاکستانی اراضی میں دہشت گرد کارروائیوں کی حمایت کے الزامات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے حالیہ بیان نے، جس میں افغان عوام کی آزادی اور نمائندہ حکومت کے قیام کی حمایت کی گئی، نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

خطے کے امور پر نظر رکھنے والے صحافی و تجزیہ کار علی ہلال کی رپورٹ کے مطابق افغان سیاسی حلقوں نے پاکستانی بیان کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ افغانستان کے سابق مشیر برائے قومی مصالحتی کونسل مجيب الرحمن رحيمي نے کہا کہ افغان عوام کی آزادی اور نمائندہ حکومت کا قیام ’’امن، ترقی اور علاقائی استحکام‘‘ کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اس موقف کو عملی حکمتِ عملی میں ڈھالے، جو افغانستان کی خودمختاری کے احترام اور انتہاپسند گروہوں کی حمایت کے خاتمے پر مبنی ہو۔

سابق افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کے سربراہ احمد ضياء سراج نے کہا کہ ہمارے نہ مستقل دوست ہیں نہ دشمن، مستقل چیز صرف قومی مفاد ہے۔ ان کے بقول پاکستان کے اس بدلتے رویے کو جذبات کے بجائے قومی مفادات کی عینک سے دیکھنا چاہیے۔

سابق وزیر برائے مہاجرین نور رحمن اخلاقی نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا یہ بیان محض سفارتی اظہار تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عملی پالیسی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ ان کے مطابق ’افغانستان میں امن و جمہوریت خطے کی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔

جنیوا میں افغان مندوب نصیر احمد اندیشہ نے پاکستانی مؤقف کو طالبان انتہاپسندی کے خلاف مزاحمت کے ہدف کا عکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک دشمنی اور مداخلت کے بجائے باہمی احترام اور جمہوری تعاون کی راہ اپنائیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اور طالبان کے درمیان موجودہ کشیدگی محض سرحدی تنازع نہیں بلکہ تعلقات میں بنیادی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب ڈیورنڈ لائن پر حالیہ دنوں میں افغان طالبان اور پاکستانی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے اور مرکزی سرحدی راستے عارضی طور پر بند کر دیے گئے۔

دوسری جانب افغانستان میں طالبان کے خلاف قائم اتحاد نیشنل لبریشن فرنٹ (این آر ایف) کے امورِ خارجہ کے سربراہ علی میثم نظری نے پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مشترک خطرات کے مقابلے کے لیے مزاحمتی محاذ کے ساتھ تعاون کرے۔ ان کے مطابق افغانستان اور پاکستان ایک مشترک تاریخ، شناخت اور تہذیبی اقدار کے وارث ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک ’’خطے میں دوستی اور باہمی اعتماد کا نیا باب کھولیں۔

نظری نے پاکستان کو ’’برصغیر کی عظیم تاریخی سلطنتوں کی وارث ریاست‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام باہمی تعاون کے ذریعے ایک پرامن اور خوشحال مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں۔

Related Posts