کیا کے-الیکٹرک واقعی فروخت ہو رہی ہے؟ جانیں حقائق کیا ہیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کے ای ایس پاور لمیٹڈ (کے ای ایس پی) کے ڈائریکٹر شان اے اشعری نے حسن چشتی کی طرف سے سعودی سرمایہ کاروں کو کے ای ایس پی میں مبینہ حصص بیچنے کے معاہدے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔

کے ای ایس پی کے بڑے شیئر ہولڈر ال جمیح پاور لمیٹڈ (اے جے پی) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ نہ تو کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو اور نہ ہی شیئر ہولڈرز کو کسی ایسے سودے کی کوئی خبر دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا رپورٹس کے علاوہ انہیں یا بورڈ کو اس بارے میں کوئی سرکاری اطلاع نہیں ملی۔

اشعری نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسی افواہیں پاکستان میں عوامی رائے بگاڑنے اور سعودی حکام سے جھوٹے تعلقات دکھا کر سرکاری توجہ حاصل کرنے کا حربہ ہو سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خبریں نہ تو کے ای ایس پی کے فائدے میں ہیں اور نہ ہی کے الیکٹرک کے دیگر شیئر ہولڈرز کے لیے اور خاص طور پر جب کمپنی کو اس کی کوئی خبر نہ ہو تو یہ محض ایک جھوٹی کہانی لگتی ہے۔

یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب چند دن پہلے سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی میزبانی میں سعودی شہزادے منصور بن محمد آل سعود کی سربراہی میں 30 افراد کا سعودی وفد آیا۔ اس موقع پر دو معاہدوں پر دستخط ہوئے جس میں ایک کے ای ایس پی کے حصص کی خرید و فروخت پر ایم او یو اور دوسرا کے الیکٹرک اور ٹرائیڈنٹ انرجی لمیٹڈ کے درمیان توانائی کی سرمایہ کاری پر تھا۔

ملکیت کی تفصیل دیتے ہوئے اشعری نے واضح کیا کہ حسن چشتی کے پاس کے ای ایس پی میں کوئی حصہ ہی نہیں اس لیے وہ کچھ بیچنے کا حقدار بھی نہیں۔ کے ای ایس پی کے شیئر ہولڈرز میں ڈینہم، اے جے پی انویسٹمنٹ لمیٹڈ اور آئی جی سی ایف ایس پی وی 21 لمیٹڈ شامل ہیں جس کا واحد ڈائریکٹر کیسی میکڈونلڈ ہے اور صرف وہی اس کے حصص بیچ سکتی ہے۔

بیان میں بتایا کہ شیئر ہولڈرز معاہدے (ایس ایچ اے) کے مطابق ایس پی وی 21 میں کوئی تبدیلی اے جے پی اور ڈینہم کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اس کے برعکس حسن چشتی ایس پی وی 21 پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر اے جے پی اور ڈینہم نے کیمن آئی لینڈز کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ 31 جولائی 2025 کے عدالتی حکم میں کہا گیا کہ یہ معاملہ قابل سماعت ہے کہ کیا ایس پی وی نے معاہدے کی خلاف ورزی کرکے چشتی کو کنٹرول دیا۔

Related Posts