امریکی ادارے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ جون 2023 میں بحرِ اوقیانوس میں غرق ہونے والی ٹائیٹن آبدوز کے تباہ ہونے کی اصل وجہ ناقص ڈیزائن اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی تھی۔
آبدوز اوشن گیٹ نامی کمپنی کی ملکیت تھی اور یہ مشہور زمانہ ٹائٹینک کے ملبے کو دیکھنے کے لیے زیر سمدنر گئی تھی کہ وہ اچانک لاپتا ہو گئی۔
تحقیقات کے مطابق کمپنی نے اس آبدوز کی مکمل جانچ نہیں کی تھی نہ ہی یہ معلوم کیا گیا کہ وہ گہرے پانی میں کتنا دباؤ برداشت کر سکتی ہے۔ کچھ نشانیاں تھیں جو نقصان کی طرف اشارہ کر رہی تھیں، مگر انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔ یہی لاپروائی آبدوز کے تباہ ہونے کا باعث بنی۔
حادثے میں موجود تمام پانچ افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جن میں اوشن گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش، برطانوی سیاح ہیمش ہارڈنگ، پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد، ان کے 19 سالہ بیٹے سلیمان داؤد، اور فرانسیسی غوطہ خور پال ہنری نارگیولے شامل تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ اوشن گیٹ میں حفاظت کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا کچھ ملازمین نے ڈیزائن میں خامیوں اور خطرناک طریقہ کار پر اعتراض کیا لیکن انکے خدشات کو نظرانداز کر دیا گیا۔
ایک سابق ٹیکنیشن نے بتایا کہ کمپنی نے مسافروں کو مشن اسپیشلسٹ کا نام دیا تاکہ حفاظتی قوانین سے بچا جا سکے کیونکہ یہ آبدوز تجرباتی (experimental) مرحلے میں تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ اور بین الاقوامی سطح پر ایسے گہرے سمندر میں جانے والے مشنز کے لیے قوانین بہت کمزور ہیں۔ رپورٹ نے امریکی کوسٹ گارڈ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسی آبدوزوں کے لیے سخت حفاظتی ضابطے نافذ کرے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک حادثات روکے جا سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








