کراچی میں عمارتیں کیوں گرائی جا رہی ہیں؟ اصل وجہ سامنے آ گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اے پی)

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے شہر میں موجود خستہ حال، خطرناک اور غیر قانونی عمارتوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔اس سلسلے میں لیاری کے علاقے آگرہ تاج کالونی میں واقع ارہا آرکیڈ نامی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر ڈیمولیشن ریحان خان کے مطابق یہ رہائشی عمارت جولائی 2025 میں ناقابلِ رہائش قرار دی گئی تھی۔ عمارت کو 60 گز کے پلاٹ پر تعمیر کیا گیا تھا جس میں زمین کے علاوہ سات منزلیں تھیں۔

یہ عمارت کسی بھی منظور شدہ نقشے کے بغیر تعمیر کی گئی تھی اور اس میں مجموعی طور پر 14 خاندان مقیم تھے جن میں سے بالائی تین منزلیں پہلے ہی خالی کروا لی گئی تھیں۔

ریحان خان نے بتایا کہ یہ اقدام اس وقت لیا گیا جب 4 جولائی کو لیاری میں ایک رہائشی عمارت گرنے سے 27 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ اسی حادثے کے بعد ارہا آرکیڈ کو خطرناک قرار دیا گیا تھا۔

پرانی عمارتیں، پرانی غفلت

حکام کے مطابق ایس بی سی اے کی ٹیم آج پرانے شہر کے علاقے میں مزید دو خطرناک عمارتوں کو گرائے گی اور دو دیگر کو خالی کرایا جائے گا۔

تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جو عمارت 4 جولائی کو گری وہ پہلے سے ہی تین منزلہ تھی اور 2022 میں غیر محفوظ قرار دی گئی تھی مگر مالک نے اسے خالی کرنے کے بجائے مبینہ طور پر متعلقہ اداروں کی چشم پوشی کے باعث مزید دو منزلیں غیر قانونی طور پر تعمیر کر لیں۔

کراچی میں سینکڑوں خطرناک عمارتیں موجود

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی آبادی دو کروڑ سے زائد ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب یہاں سینکڑوں پرانی اور خستہ حال عمارتیں موجود ہیں، جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔

بلدنگ کنٹرول اتھارٹی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اس مہم کو مزید تیز کیا جائے گا اور غیر قانونی تعمیرات کو ہر صورت ہٹایا جائے گا۔

Related Posts